دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 162
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 162 ڈھانچہ کا د حصہ ہیں اور پارلیمنٹ کوئی ایسی آئینی ترمیم بھی نہیں کر سکتی جو اس بنیادی حقوق کے برخلاف ہو اور جو کسی کے مذہب کا فیصلہ اس کی منشا اور مرضی کے خلاف کرے۔مذہب انسان کا سراسر ذاتی معاملہ ہے۔سابقہ امریکی صدر تھا مسن جیفرسن جو امریکہ کے Founding Fathers میں سے ایک تھے انہوں نے کہا تھا:۔۔"Religion is a matter which lies solely between man and his God, that he owes account to none other for his faith or his worship, that the legitimate powers of government reaches actions only, and not opinions, I contemplate with sovereign reverence that act of whole American people which declared that their legislature should "Make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof۔" Thus building a wall of seperation between church and State۔وقفہ کے بعد کارروائی شروع ہوئی۔اٹارنی جنرل صاحب کے سوالات تو بعد میں شروع ہوئے لیکن ایک ممبر اسمبلی نے ایک اور مسئلہ کے بارے میں سوال پیش کر دیا۔انہوں نے یہ سوال کیا کہ اگر اسمبلی میں تقاریر ہوں تو رپورٹر ز اس کا متن تیار کر کے ممبران کو تصحیح کے لئے بھجوا دیتے ہیں، تو اب جو جماعت کا وفد ایک گواہ کی حیثیت سے بیان دے رہا ہے تو کیا اس کا ریکارڈ جماعت کے وفد کو تصحیح اور تصدیق کے لئے بھجوایا جائے گا؟ اس کے جواب میں سپیکر صاحب نے کہا کہ جماعت کے وفد کو جماعت کے وفد کا بیان تصحیح اور تصدیق کے لئے بالکل نہیں بھجوایا جائے گا بلکہ ممبران کو اس کا ریکارڈ بھجوایا جائے گا اور صاحبزادہ صفی اللہ صاحب نے بھی اس کی تائید کی۔یہ ایک نہایت ہی قابلِ اعتراض فیصلہ تھا کیونکہ دنیا بھر میں کسی بھی سطح پر جب گواہ سے بیان لیا جاتا ہے تو پھر اس کا تحریری ریکارڈ اس کو دیا جاتا ہے جسے وہ گواہ تسلیم کے یا پھر تصحیح کر کے دستخط کر کے دیتا ہے اور پھر یہ اس کا تصدیق شدہ بیان سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ گواہ کو مکمل کر کے