دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 13
13 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ا استعفی اس بیان کے بر عکس اعلان کروادیں گے۔لیکن دولتانہ صاحب نے اپنے ساتھیوں کے مشوروں کا جواب یہ دیا کہ اپنا است پیش کر دیا اور ان ساتھیوں سے خوشامد میں کرا کے دوبارہ کرسی صدارت پر بیٹھ گئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ” نے ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلس مشاورت میں ممتاز دولتانہ صاحب کے متعلق فرمایا:۔”وہ میرے بھی دوست رہے ہیں اس لئے جتنا میں ان کو جانتا ہوں اتنا شاید ہی کوئی اور جانتا ہو۔ہم بچپن کی عمر سے دوست رہے ہیں انہوں نے دوستی کا تعلق توڑ دیا لیکن ہم نے تو نہیں توڑا۔ان کے لئے دوستانہ خیر خواہی کا جذبہ آج بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح پہلے تھا۔اگر وہ ناراض ہیں اور ہماری خیر خواہی نہیں چاہتے تو نہ سہی کسی سے زبر دستی تو خیر خواہی نہیں کی جاسکتی اور نہ اس کے مطلب کے کام کئے جاسکتے ہیں۔“(3) دولتانہ صاحب کا مذکورہ بالا بیان اس لیے بھی زیادہ خدشات کو جنم دے رہا تھا کہ وہ 1953ء میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے اور انہوں نے جماعت کے خلاف فسادات کی آگ کو عملاً ہوا دی تھی اور اس کو تاہ بینی کی وجہ سے آخر کار انہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی غلطیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا تھا۔حضور نے فرمایا کہ کنونشن مسلم لیگ جو کہ سابق صدر ایوب خان صاحب کی پارٹی تھی، اس نے بھی گومگو کی کیفیت اختیار کی اس لیے جماعت نے ان کو بھی چھوڑ دیا۔پھر حضور نے مذہبی سیاسی جماعتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا:۔"باقی کچھ علماء کی سیاسی جماعتیں تھیں مثلاً ایک جماعت اسلامی تھی۔اکثر احمدی دوستوں کو شاید یہ علم نہیں کہ یہ جماعت احمدیوں کے خلاف انتہائی شدید بغض رکھتی ہے یہاں تک کہ اگر ان کو موقع ملے تو ہماری بوٹیاں نوچنے سے بھی گریز نہ کریں مگر اس کے باوجود انہوں نے الیکشن کے دنوں میں اپنی جماعت کو یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ احمدیوں کے ساتھ پیار سے باتیں کریں، ان کو ناراض نہ کریں، کیونکہ اگر یہ ہمارے پیچھے پڑگئے تو ہمیں بہت تنگ کریں گے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان کو احمدیوں سے شدید بغض اور عناد ہے اس لئے خود تو ہمارے خلاف پوشیدہ طور پر سازشوں میں مصروف رہے لیکن دوسری جماعتوں کو جو تھیں تو مذ ہبی لیکن بظاہر سیاسی لیبل لگا کر میدان میں اتریں تھیں یعنی جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام، ان کو اکسا کر لوگوں نے ہماری مخالفت میں لگا دیا وہ ہمارے خلاف اعلانیہ بڑے بلند بانگ دعویٰ کرتے نہ تھکتے تھے اور کہتے تھے ہم احمدیوں کو مٹادیں گے۔پھر جب جماعت اسلامی نے دیکھا کہ ان کی ریا کارانہ پالیسی نے جماعت احمد سیہ پر