دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 12 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 12

12 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری وو "۔لیکن مغربی پاکستان میں صورت اس کے بالکل بر عکس تھی۔اگر خدا نخواستہ یہاں دس پارٹیوں کے ایک جیسے ارکان اسمبلی منتخب ہو جاتے تو گویا مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی کے ایک سو چالیس ارکان میں سے چودہ چودہ ارکان ہر ایک کے حصہ میں آتے یا اگر تھوڑا بہت فرق بھی ہوتا تو کوئی پارٹی پندرہ اور کوئی بیس کی تعداد میں کامیاب ہوتی۔کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوتی تو ان حالات میں مغربی پاکستان بھی باقی نہ ہوتا۔یہ حصہ ملک بھی ختم ہو چکا ہوتا کیونکہ اکثریتی پارٹی کے علاوہ جو پارٹیاں کامیاب ہو ئیں (ایک تو بالکل ناکام ہوئی) ان کے منصوبے اور ان کی سوچ جس نہج پر ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ پاکستان کو مضبوط ہونے کی بجائے کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں یعنی غدار ہیں اور یہ میں اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس ایسے ذرائع نہیں کہ میں پوری تحقیق کروں لیکن میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی جو پالیسی ہے اور ان کے جو پلیٹ فارم ہیں وہ پاکستان کو مضبوط و مستحکم کرنے والے نہیں پاکستان کو کمزور اور بے بس کرنے والے ہیں۔۔۔۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اگر مغربی پاکستان میں کوئی ایک پارٹی مضبوط بن کر ابھرے گی اور اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرے گی تو مغربی پاکستان کی حکومت مستحکم ہو گی ور نہ اگر ایک پارٹی نے اکثریت حاصل نہ کی تو حکومت مستحکم نہیں ہو گی۔“ (2) اس کے بعد حضور ” نے اس وقت مغربی پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کا تجزیہ بیان فرمایا۔اور فرمایا کہ اس وقت مسلم لیگ تین جماعتوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ایک مسلم لیگ قیوم گروپ تھا۔اس کے سر براہ خان عبد القیوم خان بڑے مخلص اور محب وطن را ہنما تھے لیکن یہ پارٹی کمزور ہو چکی تھی اور اس کی قیادت میں بھی اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔اور کسی سمجھ دار آدمی کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ اس پارٹی میں یہ ہمت نہیں کہ وہ پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کا باعث بنے۔اور ایک مسلم لیگ کو نسل تھی جس کے سر بر او دولتانہ صاحب تھے۔انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ کوئی قادیانی ہماری مسلم لیگ کا ممبر بھی نہیں بن سکتا۔حالانکہ اس وقت بھی کچھ احمدی ان کی پارٹی کے ممبر تھے اور انہوں نے اس پر احتجاج کیا تو دولتانہ صاحب نے تقریر کے اس حصے کا انکار کر دیا لیکن اس کا ریکارڈ موجود تھا جو ان کو سنا دیا گیا، جس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔اس پر جو احمدی کو نسل مسلم لیگ کے ممبر تھے انہوں نے دولتانہ صاحب کو ایک تحریری نوٹس دیا کہ وہ سات دن کے اندر اس بیان کی تردید کریں ورنہ وہ ان کی پارٹی کو چھوڑ دیں گے۔اس نوٹس پر بہت سے غیر از جماعت دوستوں نے بھی دستخط کر دیئے اور دولتانہ صاحب کی پارٹی کے ایک لیڈر نے بھی جماعت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ دولتانہ صاحب سے