دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 14
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 14 کچھ بھی اثر نہیں کیا تو وہ بھی کھلم کھلا ہماری مخالفت پر اتر آئے۔اب آپ میں سے ہر دوست سمجھ سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ نے ان مخالف اور معاند پارٹیوں کو تو ووٹ نہیں دینے تھے۔“ (3) حضور نے کچھ اور سیاسی پارٹیوں کا تجربہ کرنے کے بعد فرمایا کہ ان حالات میں صرف ایک پارٹی رہ جاتی تھی جسے ووٹ دیئے جاسکتے تھے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی تھی۔حضور نے الیکشن کے وقت اس پارٹی کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ 70 ء میں اس پارٹی کی حالت یہ تھی کہ بحیثیت پارٹی کامیاب ہونے کے لیے نہ اسے پورا علم حاصل تھا اور نہ کوئی تجربہ۔اور نئی پارٹی ہونے کی وجہ سے ابھی یہ عوام میں مقبولیت بھی حاصل نہیں کر پائی تھی۔اس کی اپنی کوئی روایات بھی نہیں تھیں حالانکہ ہر سیاسی پارٹی کی کچھ روایات ہوتی ہیں جو اس کی کامیابی میں ممد و معاون بنتی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ چونکہ ہمیں خداتعالی کا یہ منشا معلوم ہو تا تھا کہ کسی ایک پارٹی کو مستحکم بنایا جائے چنانچہ ہم نے اپنی عقل خداداد سے پاکستان کی سیاست کا جائزہ لیا تو ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی ہی ایک ایسی پارٹی ہے جسے کثرت کے ساتھ ووٹ دینا ملکی مفاد کے عین مطابق ہے۔حضور نے ۱۹۷۰ ء کے الیکشن سے قبل کے وقت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پارٹی کے اکثر ارکان ہم سے مشور و لیتے تھے۔انہوں نے ہم سے بہت مشورے لیے گو وہ مشورے لیتے ہوئے ڈرتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے کہ ان کے بغیر کوئی چارہ کار بھی نہیں۔(4) اس طرح مغربی پاکستان میں احمدیوں نے اکثر جگہوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت شروع کر دی۔لیکن یہ حمایت ہر جگہ پر پاکستان پیپلز پارٹی تک محدود نہیں تھی۔بلکہ کئی جگہوں پر احمدیوں نے دوسری پارٹیوں کے امیدواروں کی بھی حمایت کی۔بعض سیٹوں پر احمدیوں نے مسلم لیگ قیوم گروپ کو ووٹ دیئے۔کچھ سیٹوں پر کنونشن مسلم لیگ کے ایسے امیدوار کھڑے تھے جن کے احمدیوں سے دوستانہ تعلقات تھے۔جماعت نے ان سیٹوں پر ان کو ووٹ دیئے۔صوبائی اسمبلیوں کی چار سیٹوں پر بھی احمدیوں نے وعدہ کیا تھا کہ کنونشن مسلم لیگ کو ووٹ دیں گے لیکن جب ان کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں شکست ہو گئی تو انہوں نے خود ہی احمدیوں کو لکھ دیا کہ اب حالات ایسے ہوں گئے ہیں کہ ہم آپ کو اس وعدے سے آزاد کرتے ہیں۔بعض سیٹوں پر احمدیوں نے ایسے آزاد امیدواروں کی حمایت بھی کی جو طبعاً شریف تھے اور احمدیوں سے تعلقات رکھتے تھے۔اور تو اور ایک سیٹ پر کونسل مسلم لیگ کے ایسے امید وار کھڑے تھے ، جن کا اس پارٹی سے کوئی دیرینہ تعلق نہیں تھا مگر اس پارٹی نے مناسب امید وار نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ٹکٹ دے دیا۔ان صاحب کے احمدیوں