دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 137
137 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تھوڑی دیر میں ہم سب چنیوٹ وغیرہ کی ٹکٹیں لے چکے تھے۔گاڑی کا وقت بھی قریب تھا چنانچہ دو دو چار چار افراد باتیں کرتے ہوئے اسٹیشن کی بائیں جانب جنگلے کے ایک دروازے سے پہلے پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم پر جانے کے لئے درمیانے پل کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگے۔جب کچھ لوگ سیڑھیوں پر تھے اور کچھ پل پر اور کچھ پل سے دوسرے پلیٹ فارم کی سیڑھیوں پر اتر رہے تھے کہ اچانک پہلے پلیٹ فارم پر پولیس کے کمرہ کے سامنے سے چند غنڈوں نے سیڑھیوں سے اترنے والوں پر فائرنگ شروع کی۔پولیس کے تین چار سپاہی ان حملہ آوروں کی پشت پر کھڑے تھے۔اس فائرنگ سے ابتداہی میں ہمارے دس لوگ زخمی ہو گئے اور ان میں سے دو تین دوسرے پلیٹ فارم پر گر بھی گئے۔باقی زخمی پلیٹ فارم سے نیچے عقب میں گاڑی کی پٹڑی پر یا پلیٹ فارم پر ستونوں اور پل کی اوٹ میں ہو گئے۔جب فائرنگ شروع ہوئی تو خاکساراس وقت سیڑھیاں چڑھ کر پل کے شروع میں تھا اور اس سارے منظر کو دیکھ رہا تھا۔اس وقت ایک دیوانگی کے عالم میں خاکسار اور دو تین اور دوستوں نے بھاگ کر زخمیوں تک پہنچنے اور گرے ہوؤں کو گھسیٹ کر ادھر اُدھر چھپانے کی کوشش انہی لمحات میں ایک ددغنڈوں کو دونوں پلیٹ فارموں کی درمیانی پڑی کو پھلانگ کر ہاتھوں میں ہاکی اور خنجر لئے ادھر آتے دیکھا تو ہم نے فور پلیٹ فارم سے اتر کر پٹری سے پتھر اُٹھا کر انہیں تاک کر مارے۔ہمارے پتھر انہیں کاری لگے اور وہ واپس بھاگ گئے۔ان حملہ آوروں میں سے جو اس پلیٹ فارم پر آتا وہ ہمارے پتھروں کا نشانہ بنتا اور پسپا ہو جاتا۔اس سارے وقت گولیاں مارنے والے ”مجاہد “ ہم پر گولیاں برساتے رہے جو ہمارے عقب میں کھڑی مال گاڑی پر لگ لگ کر آواز میں کرتی ر ہیں۔ہم موت سے بے خبر ایک دیوانگی کے عالم میں ان پر پتھر برساتے رہے۔اس اثنا میں ریاض صاحب کو گرنے کی وجہ سے گھٹنے پر چوٹ آگئی۔کچھ دیر بعد راشد حسین صاحب کے سینے میں بھی گولی لگ گئی۔اب ہم دو تھے جنہوں نے اس وقت تک ان میں سے ایک ایک پر پتھر برسائے جب تک کہ وہ بھاگ نہ گئے۔اس وقت اگر یہ دفاع نہ ہو سکتا تو وہ یقینا اس پلیٹ فارم پر آکر ہمارے زخمیوں کو شہید کر دیتے۔بہر حال جب گولیوں کی آواز ختم ہوئی تو ایک سناٹا چھا گیا۔ہم بھی اور بعض دوسرے دوست بھی فوراً ہی پلیٹ فارم پر آگئے اور زخمیوں کو سنبھالنے لگے۔اسی اثنا میں گاڑی بھی آگئی۔ہم زخمیوں کو سہارے دے کر اس میں چڑھانے لگے کہ