دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 136
136 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری افراد جماعت پر سرگودھار میلوے اسٹیشن پر فائرنگ ان دو ہفتوں کے حالات مکمل کرنے سے قبل ایک اہم واقعہ درج کر ناضروری ہے۔اس واقعہ کو پڑھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ اُس وقت احمدیوں پر کس قسم کے مظالم روا ر کھے جارہے تھے۔مکرم و محترم بادی علی چوہدری صاحب نے جو کہ اس واقعہ کے چشم دید گواہ تھے۔اس واقعہ کو تحریر فرمایا ہے۔آپ لکھتے ہیں:۔مورخہ 16 جولائی کو سر گودھاریلوے اسٹیشن پر احمدیوں کے قافلہ پر فائرنگ کی گئی اور دس نہتے احمدیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔جس روز فائرنگ ہوئی، اس سے ایک دوروز قبل ربوہ سے جو دوست اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لئے سر گودھا جیل گئے تھے ان کو ملاقات کے بعد راستہ میں مزدو کوب کیا گیا۔اس واقعہ کے پیش نظر صدر صاحب عمومی نے 16 / جولائی کو ملاقات کے لئے جانے والے دوستوں کو منظم طریق پر جانے کی ہدایت فرمائی اور مکرم محمد احمد صاحب لائبریرین تعلیم الاسلام کالج ربوہ ( حال جر منی) کو امیر قافلہ بنایا۔اس قافلہ کے چالیس سے زائد افراد میں خاکسار اور خاکسار کے نانا محترم ماسٹر راجہ ضیاء الدین ارشد شہید شامل تھے۔خاکسار کے ماموں مکرم نعیم احمد صاحب ظفر اور خاکسار کے بڑے بھائی اشرف علی صاحب بھی جیل میں تھے۔ہم دونوں ان سے ملاقات کی غرض سے گئے تھے۔16 / جولائی کی شام کو جب ملاقات کے بعد ربوہ واپسی کے لئے اسٹیشن پہنچے تو ابھی گاڑی کی آمد میں کچھ دیر تھی۔ہم سب اکٹھے تیسرے درجہ کے ٹکٹ گھر میں انتظار کرنے لگے۔یہ ٹکٹ گھر اسٹیشن کی عمارت کے ساتھ مگر اس کے جنگلے باہر تھا۔جب ٹکٹوں والی کھڑ کی کھلی تو اکثر لوگ ٹکٹ لینے کے لئے قطار میں لگ گئے۔بعض نے جب ٹکٹ لے لئے اور مختار احمد صاحب آف فیکٹری ایریا کی باری آئی تو ٹکٹ دینے والے نے کہا: ربوہ کے ٹکٹ ختم ہو گئے ہیں، آپ لالیاں یا چنیوٹ کا ٹکٹ لے لیں، ویسے پتہ نہیں آپ لوگوں نے ربوہ پہنچنا بھی ہے یا نہیں۔“