غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 89 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 89

89 فتح کا نقارہ :۔فتح مکہ کے دن نبی کریم میں نے مکہ کی گھاٹیوں اور فضاؤں میں توحید خالق کے نعرے بلند کرنے کیلئے بھی اسی کو چنا جس نے مظلومیت کے زمانہ میں دکھ اٹھا کر اور ماریں کھا کر بھی احد احد کی صدا بلند کی تھی اور یہ ایک اور خوبصورت انتقام تھا جو بلال" کی خاطر لیا گیا۔فتح کے روز حضرت بلال حبشی کو حکم ہوا کہ ظہر کی نماز کی اذان خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر دیں۔وہ کیا عجیب نظارہ ہو گا جب حضرت بلال کی اذان کی آواز مکہ کی فضاؤں میں گونج رہی ہوگی ہاں ان گلیوں اور کوچوں میں بھی جہاں بلال نے ندائے توحید بلند کرتے ہوئے قدم قدم پر قربانیاں دی ہوئی تھیں۔کعبہ میں حضرت بلال کی آواز سن کر قریش کے سردار عتاب بن اسید اور حارث بن ہشام سخت برافروختہ ہوئے اور عتاب کہنے لگا شکر ہے میرے باپ اسید کو آج کے دن کی ذلت دیکھنے سے پہلے موت آگئی۔کیا اس کالے کوے کے سوا محمد کو اذان دینے کیلئے اور کوئی نہ ملا۔خدا کی قسم یہ ایک عظیم حادثہ ہے۔بنی صبح کا ایک غلام خانہ کعبہ پر چڑھ کر اذان کہتا ہے۔ابو سفیان کہنے لگا میں تو کچھ نہیں کہتا ورنہ یہ سنگ ریزے ہی محمد کو اس کی خبر کر دیں گے۔اتنے میں نبی کریم ملی هلال و العلم ان سرداران قریش کے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔جو باتیں تم کر رہے تھے مجھے اس کا علم عطا کیا گیا ہے مگر پھر بھی ان پر کوئی گرفت نہ فرمائی۔وہ سردار حیران و ششدر یہ کہہ اٹھے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں کیونکہ ان باتوں کے وقت کوئی ہمارے پاس موجود نہ تھا۔پس رسول اللہ مال و علم و عمل کا یہ احسان اور بلال کی اذان آج ان سردار ان کے قبول اسلام کا موجب بن گئے جو کل تک بلال کی زبان سے کلمہ توحید سننے کے بھی روادار نہ تھے۔