غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 90
90 بلال کی اذان نے امراء قریش کے دلوں میں یوں ہلچل مچائی تھی تو دوسری طرف عوام الناس میں سے کچھ لوگ غصے اور استہزاء سے بلال کی اذان کی نقلیں اتارنے لگے۔ان میں ایک نوجوان ابو محذورہ بھی تھا۔رسول اللہ میں اللہ کے حکم پر ان کو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا انہیں اندیشہ تھا کہ توحید و رسالت سے اس استہزاء کے جرم میں انہیں کسی سخت سزا کا سامنا کرنا ہو گا مگر یہاں تو عجیب نظارہ تھا جب یہ مجرم سر جھکائے حاضر ہوئے تو نبی کریم" نے ابو محذورہ کی پیشانی اور سینے پر ہاتھ پھیر اوہ کہتے ہیں میرا دل جیسے ایمان اور یقین سے بھر گیا۔پھر نبی کریم میں ہم نے اسے اذان سکھائی اور مکہ کا موذن مقرر فرما دیا۔یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ اور شفقت و احسان کے نتیجہ میں ایک اور روح کو نجات ملی۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحہ ۱۱۷۱۱۶) حرم بیت اللہ کی حرمت کا قیام:۔احکام الہی کی حرمت کے ساتھ نبی کریم میں نے فتح مکہ کے موقع پر حرم کا احترام و تقدس بھی بحال کیا۔جو آپ کی بعثت کا ایک اہم مقصد تھا۔فتح مکہ کے دوسرے دن بنو خزاعہ نے بنو ہذیل کے ایک مشرک کو حرم میں قتل کر دیا۔آپ اس پر سخت ناراض ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا۔”اے لوگو! یاد رکھو اس حرم کی عزت کو کسی انسان نے نہیں خدا نے قائم کیا ہے۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ خدا نے اصحاب الفیل کے حملہ اپنے اس گھر کو بچالیا تھا اور مسلمانوں کو اس پر مسلط کر دیا ہے۔کسی شخص کیلئے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے جائز نہیں کہ وہ اس میں خونریزی وغیرہ کرے۔یہ حرم مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال