غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 86
86 پوچھا جاتا ہے کہ تمہیں کس سلوک کی توقع ہے تو وہ کہتے ہیں۔"آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں مگر آپ جیسے کریم انسان سے ہمیں نیک سلوک کی ہی امید ہے اس سلوک کی جو حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔" * سچا عفو : حضرات لوگ مکہ میں رسول اللہ کے داخلہ کو فتح قرار ! دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی میں ایم کی حقیقی فتح آپ کے خلق عظیم کی فتح تھی جس کا دشمن بھی اعتراف کر رہا تھا کہ اب تک جس وجود سے صرف اور صرف رحمت ہی ظاہر ہوئی آج بھی اس سے رحمت کی امید کیوں نہ رکھیں؟ لیکن رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی توقعات سے کہیں بڑھکر ان سے حسن سلوک کیا۔آپ نے فرمایا اِذْهَبُوا أَنْتُمُ الطَّلَقَاء لا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ کہ جاؤ تم سب آزاد ہو اور صرف میں خود تمہیں معاف نہیں کرتا ہوں بلکہ اپنے رب سے تمہارے لئے عفو کا طلب گار ہوں۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۹۴) یہ وہ سچا عفو تھا جس کے چشمے میرے آقا کے دل سے پھوٹے اور مبارک ہونٹوں سے جاری ہوئے۔اس رحمت عام اور عفو تام کو دیکھ کر دنیا انگشت بدنداں ہے۔مستشرقین بھی اس حیرت انگیز معافی کو دیکھ کر اپنا سر جھکا لیتے ہیں اور اس عظیم رسول مینی و هال لول کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔بطور نمونہ مشہور مستشرق شین لے لین پول کا فتح مکہ کے بارہ میں تاثر بیان کرتا ہوں وہ سادہ لکھتا ہے۔اب وقت تھا کہ پیغمبر می خونخوار فطرت کا اظہار کرتے۔آپ کے قدیم ایذاء د بندے آپ کے قدموں میں آن پڑے ہیں۔کیا آپ"