غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 79
79 شهر دو عالم کیلئے چند خشک ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں۔آپ فرماتے ہیں وہ ٹکڑے ہی لے تو آؤ پھر آپ پانی منگوا کر وہ خشک ٹکڑے بھگو لیتے ہیں۔تھوڑا رہ سا نمک اوپر ڈالتے ہیں اور پوچھتے ہیں کچھ سالن ہے ؟ ام ہانی عرض کرتی ہیں سالن تو نہیں سرکے کی کچھ تلچھٹ پڑی ہے اور خدا کا پیارا رسول میری بچا کھچا سر کہ ان گیلے نمکین ٹکڑوں پر ڈال کر مزے مزے سے کھانے لگتا ہے اور ساتھ الحمد للہ الحمد للہ کہتے جاتے ہیں۔یہ میرے آقا کا اپنی عظیم فتح کے دن کا کھانا ہے۔(مجمع الزوائد جلد ۸ صفحہ ۱۷۶) ہم بسا اوقات اعلیٰ کھانے کھا کر بھی خدا کا شکر کرنا بھول جاتے ہیں۔آؤ ہم اپنے آقا سے سبق سیکھیں۔خدا کا وہ شکر گزار بندہ اس سادہ کھانے پر بھی خدا کا کتنا شکر ادا کرتا ہے۔بہن سے فرماتے ہیں ام ہانی ! سرکہ بھی کتنا اچھا سالن ہوتا ہے۔اس واقعے سے رسول اللہ علی کی قناعت بے نفسی اور مقام رضا کا بھی خوب اندازہ ہوتا ہے۔آپ ہر حال میں خوش رہنا جانتے تھے اور یہی آپ کی خوشگوار زندگی کا راز تھا۔بیت اللہ کی طرف روانگی:۔اب ہمارے آقا اپنی او تخنی قصواء پر سوار صحابہ کے جلو میں بیت اللہ شریف کی طرف روانہ ہوتے ہیں یہ وہی قصواء ہے جسے دو سال قبل حدیبیہ مقام پر مکے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ہاں! آپ خدا کے اسی گھر کا طواف کرنے آ رہے تھے جس سے آٹھ سال تک آپ کو روکا گیا۔اس وقت آپ کے جذبات کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جسے اس گھر سے روکا گیا ہو۔پھر خود ہی بتاؤ کہ وہ جو اس گھر کا مقصود تھا۔ہاں اس گھر کا دولہا جب قدوسیوں کی بارات لیکر اس پاک گھر کے طواف کے لئے آرہا ہو گا تو اس کے