غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 80
80 A جذبات میں کیا تلاطم ہو گا؟ خدائے واحد کا گھر جو ابراہیم خلیل اللہ نے ان دعاؤں کے ساتھ تعمیر کیا تھا۔رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ أَمِنَّا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ تَعْبُدُ الْأَصْنَامَ (ابراہیم : ۳۶) کہ خدایا مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچانا۔اب اس گھر کو ۳۶۰ جھوٹے خداؤں نے گھیر رکھا تھا۔لیکن ابراہیمی دعاؤں کی بدولت اس ظلم اور جھوٹ کے مٹنے کا وقت آچکا تھا اور خانہ کعبہ تشریف لا کر سب سے پہلے اس مقدس رسول نے خدا کے گھر کو بتوں سے پاک کیا۔حق آیا اور باطل بھاگ گیا :۔ابھی کے میں داخلے کے وقت کمال انکساری کا ایک منظر آپ نے دیکھا تھا۔جب اپنی ذات کا معاملہ تھا تو اس فخر انسانیت نے اپنا وجود کتنا مٹا دیا اور اپنا سر کتنا جھکا دیا تھا لیکن جب رب جلیل کی عظمت و وحدانیت کی غیرت کے اظہار کا وقت آیا تو اس نبیوں کے سردار نے ایک ایک بت کے پاس جا کر پوری قوت سے اس پر اپنی کمان ماری اور گراتے چلے گئے اور بڑے جلال سے یہ آیت پڑھتے تھے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل : ۸۲) کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور وہ ہے ہی مٹنے والا (بخاری کتاب المغازی) چند لمحوں میں ضرب مصطفوی سے لات و منات کے بت ریزہ ریزہ ہو گئے۔عزئی ٹوٹ کر پارہ پارہ ہو گیا اور حبل پاش پاش ہو کر بکھر گیا۔آج تعمیر بیت اللہ کا مقصد پورا ہوا کہ اس میں صرف اور صرف خدائے واحد کی پرستش کی جائے یہ محمد مصطفی میں دل کی مرادوں اور تمناؤں کے پورا ہونیکا دن تھا۔یہ خدا کی بڑائی ظاہر کرنے اور عظمت قائم کرنے کا دن تھا۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۹۳)