غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 78 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 78

78 اے اللہ ! اصل زندگی تو آخرت کی ہے۔دنیا کی فتوحات کی کیا حقیقت ہے۔(ابن هشام جلد ۴ صفحه ۹۱) اللہ اللہ امحمد مصطفی میں ان کی استقامت کتنی حیرت انگیز ہے اور آپ " کی بے نفسی کا بھی کیا عجیب عالم ہے اپنی زندگی کے سب سے بڑے ابتلا پر جنگ احزاب میں بھی آپ یہی فقرہ دہراتے تھے۔اللهم لا عيش الا عيش الاخرہ کہ یہ دکھ تو عارضی ہیں اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور اپنی زندگی کی عظیم ترین فتح کے موقع پر بھی آپ "کمال شان استقامت سے وہی نعرہ بلند کرتے اللهم لا عيش الاعـيش الاخره سبحان اللہ ! کیسا کوہ وقار انسان ہے کہ ابتلاء ہو یا فتح تنگی ہو یا آسائش اس کے قدم صدق میں کوئی لغزش نہیں آتی۔آئیے! اس فقرہ کی سچائی جاننے کیلئے اس عظیم فاتح کے جشن فتح کا نظارہ کریں۔فتح کے دن کی دعوت بے مثال : دو پر کا وقت ہوا چاہتا ہے کھانے کا وقت ہے فاتحین عالم کے جشن کے نظارے یاد کرتے ہوئے آؤ دیکھیں کہ یہ عظیم فاتح کیا جشن مناتا ہے؟ اور کیا لذیذ کھانے اڑائے جاتے ہیں؟ وہ مقدس وجود جس کی خاطر یہ کائنات بنائی گئی۔جس کے طفیل ہم اس کے ادنی غلام بھی قسم قسم کی نعمتوں سے حصہ پاتے ہیں آؤ اس کی عظیم ترین فتح کے دن دیکھیں تو سہی کہ کتنے جانوروں کے کاٹنے کا حکم ہوتا ہے ؟ اور کیا پکوان پکائے جاتے ہیں؟ اللهم لا عيش الا عيش الآخرہ کہنے والے کے جشن فتح کا نظارہ کچھ اس طرح ہے۔آپ اپنی چچا زاد بہن ام ہانی کے گھر تشریف لے جاتے ہیں اور فرماتے ہیں بہن کچھ کھانے کو ہے؟ بہن شرمندہ ہے کہ گھر میں فی الفور اس