غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 77
77 رب جلیل کا یہ پہلوان حفاظتی خود کے اوپر سیاہ رنگ کا عمامہ پہنے اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھا اور سرخ رنگ کی یمنی چادر پہلو پر تھی۔سواری پر پیچھے اپنے وفادار غلام زید کے بیٹے اسامہ کو بٹھایا ہوا تھا۔دائیں جانب ایک وفادار ساتھی حضرت ابو بکر تھے اور بائیں جانب حضرت بلال۔(بخاری کتاب المغازی) اور اسید بن حضیر انصاری سردار تھے۔فتح مکہ کے دن امن کے اعلان عام کی خاطر رسول خدا نے سفید جھنڈا لہرایا جب کہ بالعموم آپ کا جھنڈا سیاہ رنگ کا ہوا کرتا تھا۔اس وقت آپ سورہ فتح کی آیات تلاوت فرما رہے تھے اور آپ کی سواری شہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔جب وہ موڑ آیا جس سے کلے میں داخل ہوتے ہیں وہی موڑ جہاں آٹھ سال پہلے مکے سے نکلتے ہوئے آپ نے وطن عزیز پر آخری نگاہ کرتے ہوئے اسے اس طرح الوداع کہا تھا کہ :۔”اے مکہ اتو میرا پیارا وطن تھا اگر تیری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہر گز نہ نکلتا " سرولیم میور لکھتا ہے کہ :۔" خدشہ تھا کہ شاید اس جگہ نبی کریم کو مکہ میں داخلہ سے روکنے کیلئے مزاحمت ہو مگر اللہ کی شان کہ خدا کا رسول آج نہایت امن سے اپنے شہر میں داخل ہو رہا تھا۔" (لائف آف محمد صفحہ ۴۲۶) اس وقت مفتوح قوم نے ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی فتح کے دن غرور اور تکبر کے کسی اظہار کی بجائے خدا کے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ کر اس عظیم فاتح کا سر عجز و انکسار اور شکر کے ساتھ جھک رہا تھا حتی کہ جھکتے جھکتے وہ اونٹی کے پالان کو چھونے لگا دراصل آپ سجدہ شکر بجالا رہے تھے اور یہ فقرہ زبان پر تھا۔اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ كم