غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 74 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 74

74 سلامتی کے شہنشاہ کی طرف سے جو فرمان شاہی جاری ہوا وہ یہ تھا کہ آج مسجد حرام میں داخل ہو نیوالے ہر شخص کو امان دی جاتی ہے۔امان دی جاتی ہے ہر اس شخص کو جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے یا اپنے ہتھیار پھینک دے اپنا دروازہ بند کر لے اور ہاں جو شخص بلال حبشی کے جھنڈے کے نیچے آ جائے اسے بھی امان دی جاتی ہے۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۹۷ ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۹۰-۹۱) اس اعلان کے ذریعہ سے جہاں خانہ کعبہ کی حرمت قائم کی گئی وہاں دشمن اسلام ابوسفیان کی دلداری کا بھی کیسا خیال رکھا گیا یہی وہ اعلیٰ اخلاق تھے جن سے بالا خر ابو سفیان کا دل اسلام کیلئے جیت لیا گیا اور اسے نبی کریم کی رسالت پر ایمان اور تالیف قلب نصیب ہوا۔اس طرح آنحضرت ملی یم کا بلال کے جھنڈے کو امن کا نشان قرار دینا علم النفس کے لحاظ سے آپ کے اخلاق فاضلہ کی زبر دست مثال ہے کوئی وقت تھا جب مکے کے لوگ بلال کو سخت اذیتیں دیا کرتے تھے اور مکے کی گلیاں بلال کے لئے ظلم و تشدد کی آماجگاہ تھیں۔رسول کریم میں نے سوچا آج بلال کا دل انتقام کی طرف مائل ہو تا ہو گا اس وفادار ساتھی کا انتقام لینا بھی ضروری ہے۔لیکن ہمارا انتقام بھی اسلام کی شان کے مطابق ہونا چاہئے پس آپ نے گردنیں کاٹ کر بلال کا انتقام نہیں لیا بلکہ بلال جو کبھی مکے کی گلیوں میں ذلت اور اذیت کا نشان رہ چکا تھا آج نبی کریم میں نے اسے اہل مکہ کے لئے امن کی علامت بنا دیا۔بلال الله کے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا اور بلال کے جذبات کا بھی خیال رکھا۔آج میں سوچتا ہوں وہ کیا عجیب منظر ہو گا جب بلال یہ منادی کرتا ہو گا کہ اے مکہ والو! بلالی جھنڈے کے نیچے آجاؤ تمہیں امن دیا جائے گا اور یہ کتنا بڑا فخر ہے جو آنحضرت میں نے اس غلام کو بخشا کہ اس پر ظلم کرنیوالے اس پر