غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 75 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 75

75 کی پناہ میں آنے سے بخشے جائیں گے۔یہ پاک نمونہ بلاشبہ شرف انسانی کے قیام کی زبردست علمی شہادت ہے۔آنحضرت میں نے مکے میں داخل ہوتے وقت اپنے جرنیلوں کو بھی حکم دیا کہ کسی پر حملے میں پہل نہیں کرنی اور اس وقت تک جنگ شروع نہیں کرنی جب تک تم پر لڑائی مسلط نہ کر دی جائے۔آپ خود مکے کی بالائی جانب اس مقام سے شہر میں داخل ہوئے جہاں حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہ اللہ کی قبریں ہیں اور یوں فتح کے موقع مصیبت کے زمانہ کے مددگاروں کو یاد رکھا اور اپنے کہنہ مشق جرنیل خالد بن ولید کو مکے کی زیریں شمالی جانب سے داخلے کا ارشاد فرمایا جہاں عکرمہ بن ابی جہل اور اس کے ساتھیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا اس مزاحمت میں مسلمانوں کے دو آدمی شہید ہو گئے۔(بخاری کتاب المغازی) اور قریش کے جو آدمی مارے گئے ان کی تعداد دس سے اٹھائیس تک بیان کی جاتی ہے۔اگر کفار کی طرف سے مزاحمت نہ ہوتی تو یہ خون بھی نہ بہتا۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۹۷-۱۹۸ " سرولیم میور نے بھی لکھا ہے کہ محمد نے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کر کے مختلف راستوں سے شہر میں داخلہ کا حکم دیا اور سختی سے ہدایت کی کہ سوائے انتہائی مجبوری اور خود حفاظتی کے جنگ نہیں کرنی۔" اس جگہ سرولیم میور ہمارے آقا و مولا کی خداداد فراست و بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا وہ لکھتا ہے:۔مکہ میں داخلہ کے وقت اسلامی دستوں کی ترتیب بڑی دانشمندی سے اس طرح کی گئی تھی کہ اگر مکہ والے فوج کے کسی ایک حصہ پر بھی حملہ آور ہوتے تو دوسرا دستہ ان کی مدد کیلئے فوری طور پر پہنچ سکتا تھا۔(لائف آف محمد صفحه (۴۲)