غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 73
73 بات کہہ کر ابو سفیان کا دل دکھایا ہے۔ہاں ! اس دشمن ابو سفیان کا جو مفتوح ہو کر بھی آپ کی رسالت قبول کرنے میں متامل تھا۔اے دنیا والو! دیکھو اس عظیم رسول می ی ی ی ی ی ی یمن کے حوصلے کو دیکھو۔کہ عین حالت جنگ میں جرنیلوں کی معزولی کے تمام خطروں سے آگاہ ہوتے ہوئے یہ فیصلہ سناتے ہیں کہ سعد سے اسلامی جھنڈا واپس لیا جائے۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۹) رض اور ہاں اس محسن اعظم کے احسان پر بھی تو نظر کرو کہ غیرت اسلام کے جوش میں سرشار ایسا نعرہ بلند کرنے والے جرنیل سعد کا بھی آپ کس قدر لحاظ رکھتے ہیں۔اور ساتھ ہی دوسرا حکم یہ صادر فرماتے ہیں کہ سعد کی بجائے کمانڈر ان کے بیٹے قیس کو مقرر کیا جاتا ہے۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحہ ۹۰ تا ۹۵) کیا جنگوں کی ہنگامہ خیزیوں میں بھی کبھی اپنے خدام کے جذبات کا ایسا خیال رکھا گیا ہے؟ نہیں نہیں یہ صرف اس رحمتہ العالمین کا ہی خلق عظیم تھا جو سزا میں بھی رحمت و شفت اور احسان کا پہلو نکال لیتے تھے۔عظمت اخلاق کا بلند ترین مینار : حضرات! آپ " فاتحین عالم کے اس دستور سے واقف ہوں گے جس کا نقشہ قرآن شریف میں یوں بیان ہے إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةٌ وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ (النمل: ۳۵) کہ شہروں میں داخلے کے وقت آبادیوں کو ویران اور ان کے معزز مکینوں کو بے عزت اور ذلیل کر دیا جاتا ہے لیکن رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی عظیم ترین فتح کو بھی تو دیکھو جہاں آپ کی عظمت اخلاق کا سب سے بلند اور روشن ترین مینار ایستادہ ہے۔جب دس ہزار قدوسیوں کا لشکر مکہ کے چاروں اطراف سے شہر میں داخل ہوا تو قتل و غارت کا بازار گرم ہوا نہ قتل عام کی گرم بازاری بلکہ امن و