غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 72
72 الله الله اس موقع پر حضرت عمر نے دشمن اسلام ابوسفیان کو قتل کرنا چاہا لیکن آنحضرت میمی لی لی لی لی لی تو اس کے لئے پہلے سے امن کا اعلان کر چکے تھے کہ ابو سفیان بن حرب کسی کو ملے تو اسے کچھ نہ کہا جائے۔یہ گویا آپ کی طرف سے ابو سفیان کی ان مصالحانہ کوشش کا احترام تھا جو اس نے معاہدہ شکنی کے خوف سے مدینے آکر چالا کی سے کی تھیں اور ان کی کوئی قیمت نہ تھی۔لیکن آپ کی رحمت بھی تو بہانے ڈھونڈھتی تھی۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۹۰) صبح جب ابو سیفان دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا۔ابو سفیان! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم گواہی دو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔" تب ابو سفیان نے بے ساختہ یہ گواہی دی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ نہایت حلیم، شریف اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔اگر خدا کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو وہ ضرور ہماری مدد کرتا۔البتہ آپ کی رسالت کے قبول کرنے میں ابھی کچھ تامل ہے۔حضرت عباس کو جو ابو سفیان کو اپنی حفاظت میں لئے ہوئے تھے ارشاد رسول ہوا کہ جب اسلامی لشکر مکے کی جانب روانہ ہو تو ابو سفیان کو کسی بلند جگہ سے لشکر کی شان و شوکت کا نظارہ کرایا جائے۔اور یوں یہ دنیا دار شخص شاید اس سے مرعوب ہو کر حق قبول کرلے۔دس ہزار قدوسیوں کا لشکر چلا ہر امیر فوج جھنڈا بلند کئے اپنے دستہ سے آگے آگے تھا۔جب سعد بن عبادہ انصار مدینہ کے سردار اپنے مسلح دستہ کو لیکر ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو جوش میں کہہ گئے۔الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ آج جنگ و جدال کا دن ہے الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الكَعْبَة آج کعبہ کی عظمت قائم کرنے کا دن ہے۔(بخاری کتاب المغازی) نبی کریم میں نے اس کمانڈر کو معزول کر دیا کہ اس نے ایک ناردا