غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 63
63 یقین کے ساتھ مدینے پہنچا کہ محمد ملی یا ام ایم کو اس بد عہدی کی خبر نہ ہوگی۔اس نے بڑی ہوشیاری سے آنحضرت میا سے بات کی کہ صلح حدیبیہ کے وقت میں جو اصل سردار قریش ہوں موجود ہی نہیں تھا۔اس لئے آپ میرے ساتھ اس معاہدہ کی تجدید کر لیں۔آنحضرت میں ایم نے کمال حکمت عملی سے پوچھا کہ کیا کوئی فریق معاہدہ توڑ بیٹھا ہے۔ابو سفیان گھبرا کر کہنے لگا ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی۔رسول کریم میں یا کہ ہم نے جواب دیا تو پھر ہم سابقہ معاہدے پر قائم ہیں۔نئے معاہدے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے ابو سفیان کی واضح غلط بیانی دیکھ کر بھی اس کا جھوٹ ظاہر کر کے اسے شرمندہ کرنا پسند نہ فرمایا۔ابوسفیان نے بزرگ صحابہ سے سفارش کرانا چاہی لیکن ہر ایک نے یہی جواب دیا کہ ہمارے آقا میں اور جب کسی بات کا فیصلہ فرمالیں تو ہم اس میں دخل دینے کی جرات نہیں کر سکتے۔(سیرت الحلبیہ جز ۳ صفحه ۸۳ تا ۸۵) صحابہ" جانتے تھے کہ ان کے آقا می ہمیشہ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ پر عمل کرتے ہیں۔ابو سفیان کہنے لگا بخدا! میں نے تم ب کو یکجان پایا ہے۔ابو سفیان کی یہ گواہی کتنی زبردست ہے کہ صحابہ رسول أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کا سچا نمونہ تھے اور کفار کے مقابل پر کتنے سخت تھے۔اور دراصل یہ رسول اللہ کی تربیت کا ہی نتیجہ تھا۔امن کا شہزادہ: یہاں رسول کریم میں لی لی ایم کے خلق عظیم کے بارے میں اس سوال کا جواب بھی ضروری ہے کہ آپ نے ابوسفیان کی مصالحانہ کوششوں کو کیوں رد کر دیا اور بقول سرولیم میور کیا کے پر اس طرح حملہ کر دیا جیسے پہلے سے حملہ کیلئے بہانے ڈھونڈھ رہے ہوں؟ امن و آشتی کے اس شہزادے پر الزام لگانے والوں سے میں پوچھتا ہوں کہ کیا ابوسفیان واقعی سفیر امن بن کر آیا تھا؟ نہیں نہیں وہ تو دھوکہ دہی