غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 62
62 کر فرمایا کہ منشا الہی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قریش کی اس بد عہدی کا ہمارے حق میں کوئی بہتر نتیجہ ظاہر ہو۔پھر تین روز بعد قبیلہ خزاعہ کا چالیس شتر سواروں کا ایک وفد “ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ بنو بکر اور قریش نے مل کر بد عہدی کرتے ہوئے شب خون مار کر ہمار اقتل عام کیا ہے۔اب آپ کا فرض ہے کہ معاہدہ کی رو سے ہماری مدد کریں۔خزاعہ قبیلہ کے نمائندہ عمرو بن سالم نے اپنا حال زار بیان کر کے خدا کی ذات کا واسطہ دیگر ایفائے عہد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا۔يَا رَبِّ أَنْعَى نَاشِدًا مُحَمَّدًا حَلْفٌ اَبِيْنَا وَ أَبِيهِ الْاَ تُلَدًا خزاعہ کی مظلومیت کا حال سن کر رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا دل : آیا۔آپ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور آپ نے ایفائے عہد کے جذبہ سے سرشار ہو کر فرمایا۔یقیناً یقینا تمہاری مدد کی جائے گی۔اگر میں تمہاری مدد نہ کروں تو خدا میری مدد نہ کرے۔نہیں نہیں تم محمد میر کو باوفا پاؤ گے۔تم دیکھو گے کہ جس طرح میں اپنی جان اور بیوی بچوں کی حفاظت کرتا ہوں اسی طرح تمہاری حفاظت کروں گا۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۸۶) اس صورت حال میں سرولیم میور کا یہ خیال کس قدر بودا دکھائی دیتا ہے کہ فتح مکہ کیلئے یہ واقعہ محض ایک بہانہ تھا۔حالانکہ وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ قریش مکہ کے کچھ سرداروں نے بھیس بدل کر بنو خزاعہ پر شب خون مارنے میں بنو بکر کی مدد کی تھی اور ان کے کئی آدمی قتل کر دیئے کیا اس کے بعد بھی کوئی دانا اسے بہانا قرار دے سکتا ہے۔(لائف آف محمد صفحہ ۴۱۴) نبی کریم کی شان فراست: ادھر ابو سفیان اس معاہدہ شکنی کے نتیجے سے بچنے کیلئے بہت جلد اس