غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 64 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 64

64 ے معاہدہ شکنی پر پردہ ڈالنے آیا تھا۔رسول اللہ میں جانتے تھے کہ به مهدی تو عکرمہ اور اس کے ساتھیوں نے کی ہے۔جنہوں نے معاہدہ کیا تھا۔اس لئے ابو سفیان سے مصالحت کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔(سیرت الحلبیہ جز ۳ صفحه ۸۶٬۸۶) دستور اور قانون کے لحاظ سے اب مسلمان ان بد عہدوں کے خلاف سخت سے سخت اقدام کا حق رکھتے تھے۔لیکن خلق عظیم پر فائز اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ملاحظہ ہو۔آپ پھر بھی قریش سے صلح کی طرح ڈالتے نظر آتے ہیں۔چنانچہ پہلے تو آپ نے معاہدہ شکنی کرنے والوں کی طرف اپنا سفیر بھیجا اور تین شرائط میں سے کسی ایک شرط پر صلح کی پیشکش کی کہ ہمارے حلیف خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا ادا کر دو یا بنو بکر کی طرف داری سے الگ ہو جاؤ یا حدیبیہ کی صلح توڑنے کا اعلان کر دو۔اور جب مسلمانوں کے اس سفیر کو جواب ملا کہ ہم حدیبیہ کی صلح توڑتے ہیں۔(زرقانی جلد ۲ صفحہ ۲۹۲) مشاورت اور صحابہ کی آراء: تو اب آنحضرت مایا ای پر لازم ہو گیا کہ آپ " اپنے مظلوم حلیف خزاعہ کی امداد اور قریش کی معاہدہ شکنی پر قرار واقعی گرفت فرمائیں۔لیکن اس جگہ رسول اکرم میں یا اللہ کا ایک اور اعلیٰ خلق ظاہر ہوتا ہے۔آپ" کوئی اہم کام مشورہ کے بغیر نہیں فرماتے تھے بلکہ ہمیشہ شا و رهم في کے حکم پر عمل فرماتے۔چنانچہ آپ نے اس موقعہ پر بھی حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے مشورہ فرمایا۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ملی یم آپ کی اپنی قوم ہے کیا اس پر حملہ کریں گے۔لیکن حضرت عمر نے کہا کہ قریش کفر کی جڑ ہیں انہوں نے حضور میں ایم کے ساتھ دشمنی کی حد کر دی ہے اس بد عہدی پر ضرور گرفت ہونی چاہئے۔