غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 61 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 61

61 فتوحات کی خبر دی گئی۔چنانچہ یہ اس صلح کی ہی برکت تھی کہ مسلمان جنوب کی طرف سے قریش مکہ کے حملہ سے مطمئن ہو کر شمال کی جانب سے یہود خیبر کے حملہ کے خطرہ سے نبٹنے کے قابل ہوئے۔اور فتح حدیبیہ کے چند ماہ بعد ہی سنہ ۷ ھ انہوں نے کمال حکمت عملی سے خیبر فتح کر لیا۔اسی صلح کے زمانہ میں تبلیغ اسلام کی وسعت کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ادھر قریش مسلمانوں کی ترقی دیکھ کر غیض و غضب کی آگ میں جل رہے تھے۔بدر میں اپنے سرداروں کی ہلاکت کے بعد انہوں نے ابو سفیان کو اپنا سردار بنایا تھا۔جس پر ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بعض اور سرداروں کو ساتھ ملا کر اس کا مخالف ہو گیا اور قریش عملاً دو گروہوں میں بٹ گئے۔صلح حدیبیہ کے وقت عکرمہ ہی کے ایک ساتھی سہیل بن عمرو نے مسلمانوں کے ساتھ آئندہ دس سال کے لئے معاہدہ امن طے کیا تھا۔جس کے مطابق بنو بکر قریش کے حلیف بنے تھے اور بنو خزاعہ مسلمانوں کے۔خزاعہ کی مظلومیت اور امداد طلبی:۔صلح کے زمانے میں مسلمانوں کی غیر معمولی کامیابیاں دیکھ کر قریش نے معاہدہ امن تو ڑنا چاہا اور عکرمہ کے تشدد پسند گروہ نے اپنے حلیف بنو بکر سے ساز باز کر کے ایک اندھیری رات میں مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا۔خزاعہ نے حرم کعبہ میں پناہ لی۔لیکن پھر بھی ان کے ۲۳ آدمی نہایت بے دردی سے قتل کر دیئے گئے۔ابو سفیان کو اس واقعہ کا چلا تو اس نے کہا یہ سراسر شر انگیزی ہے۔اب محمد ہم پر ضرور حملہ کریں گے۔ادھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ملی الم کو اس واقعہ کی اطلاع اسی صبح کر دی اور آپ نے حضرت عائشہ کو یہ واقعہ بتا