غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 60
60 قیام امن کیلئے قربانی و صبر: ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم کا ہمیشہ یہ طرہ امتیاز رہا کہ آپ ہر امکانی حد تک فساد سے بچتے اور ہمیشہ امن کی راہیں اختیار کرتے تھے۔مکے کا ۱۳سالہ دور ابتلا گواہ ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ نے سخت اذیتیں اور تکالیف اٹھائیں لیکن صبر پر صبر کیا۔جانی اور مالی نقصان ہوئے پر برداشت کئے اور مقابلہ نہ کیا۔اپنے مظلوم ساتھیوں سے بھی یہی کہا کہ ماریں کھاؤ اور صبر کرو گالیاں سنو اور دعائیں دو پھر جب۔شمن نے شہر مکہ میں جینا دو بھر کر دیا۔آپ کے قتل کے منصوبے بنائے تو آپ اور آپ کے ساتھیوں نے عزیز و اقارب اور مال و جائیداد کی قربانیاں دے کر دکھی دل کے ساتھ وطن کو بھی خیر باد کہہ دیا اور مدینے پناہ لی۔دشمن نے وہاں بھی چین کا سانس نہ لینے دیا۔قریش مکہ کے لشکر بدر اور احد میں مدینے کے گنتی کے کمزور اور نہتے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔پھر جنگ احزاب میں تو سارا عرب مسلمانان مدینہ پر چڑھ آیا اور اہل مدینہ نے شہر کے گرد خندق کھود کر اور اس میں محصور ہو کر جانیں بچائیں۔آپ ہمیشہ دفاع ہی کرتے رہے۔خانہ کعبہ کے حقیقی متولی مسلمانوں کو یہ اجازت بھی نہ تھی کہ وہ خدا کے گھر کا طواف ہی کر سکیں۔فتح مکہ کا پس منظر: رسول خدا ملی لی ایک رؤیاء کی بنا پر سنہ۵۶۷ میں عمرہ کرنے کے گئے تو حدیبیہ مقام پر روک دیئے گئے یہاں بھی امن کی خاطر صلح کے اس شہزادے نے بظاہر دب کر کٹھن شرائط پر صلح منظور کرلی۔یوں اس سفر سے آپ بغیر عمرہ کئے واپس لوٹے اور اپنی قربانیاں خانہ کعبہ کی بجائے حدیبیہ کے میدان میں ہی ذبح کر دیں۔واپسی پر سورہ فتح کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں اس صلح کو فتح قرار دے کر آئندہ