غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 59 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 59

59 خلق عظیم کی چمکار:۔اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں ہمارے سید و مولا حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ایسے اعلیٰ درجہ کی تعریف کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔فرماتا ہے إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيم که تمام اخلاق فاضلہ اور شمائل حسنہ جو ایک انسان کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ سب کے سب آپ کے اندر جمع ہیں۔حق یہ ہے کہ مکارم اخلاق کی ہر چوٹی محمد میں لی نے سر کی۔غزوات میں بھی آپ کے خلق عظیم کی چمکار تلواروں اور نیزوں کی چمک سے کہیں زیادہ روشن اور درخشندہ و تاباں ہے۔قارئین کرام! آج سے قریباً ۱۴۰۰ برس پہلے کا واقعہ ہے۔رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔سوموار کا دن اور چاشت کا وقت۔جب ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم فاتحانہ شان کے ساتھ اپنے وطن مکہ میں داخل ہوئے جہاں سے آٹھ سال قبل نہایت بے سروسامانی کے عالم میں نکلے تھے۔اس وقت آپ خدا کے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ کر گہرے جذبات تشکر سے لبریز ایک عجب سوز اور خوش الحانی کے ساتھ سورہ فتح کی وہ آیات تلاوت فرما رہے تھے جو ایک سال پیشتر حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی تھیں اور جن میں حدیبیہ کو فتح مبین کا نام دیتے ہوئے اسے کئی فتوحات کا پیش خیمہ قرار دیا گیا تھا۔آج اس موعود فتح کے موقع پر ہمارے آقا و مولا کا سر خدا کے حضور جھکتے جھکتے اونٹنی کے پالان کو چھو رہا تھا اور اپنی زندگی کی اس عظیم فتح پر آپ سجدہ شکر بجا لا رہے تھے۔مگر اس شاندار فتح کے سفر پر روانہ ہونے اور اس کی تفاصیل بیان کرنے سے پہلے اس کا پس منظر اور اس میں ظاہر ہونے والے آنحضرت م کے اخلاق فاضلہ کا تذکرہ نہایت ضروری ہے۔