غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 28
28 اے دشمنوں کے حق میں خیر و بھلائی کی دعائیں کرنے والے! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! سوائے اس کے کیا کہوں۔محمد ہی نام اور محمد ہی کام عَلَيْكَ الصَّلوةُ عَلَيْكَ السَّلَامُ میدان خیبر میں پڑاؤ : حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ہم رات کے وقت خیبر پہنچے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ کسی دشمن پر شب خون نہ مارتے تھے۔خیبر میں بھی آپ نے رات کے اندھیرے اور دشمن کے غافل ہونے کا فائدہ نہیں اٹھایا۔خیبر میں پڑاؤ کرتے ہوئے ایک اور حکمت عملی آنحضرت میں نے یہ اختیار فرمائی کہ لشکر کو پانچ حصوں (مقدمہ میمنہ میسرہ، قلب اور ساقہ) میں تقسیم کر کے قلعہ ہائے خیبر کے سامنے میدان میں اس طرح پھیلا دیا کہ وہ سرسری نگاہ میں ایک لشکر جرار نظر آتا تھا اور اس حکمت عملی میں جو دراصل شمن کو اچانک حیران و ششدر کر دینے سرپرائز (Surprise) دینے کا حصہ تھی۔رسول اللہ یا کو حیرت انگیز کامیابی حاصل ہوئی۔, واقعہ یہ ہوا کہ صبح جب قلعوں کے دروازے کھلے اور یہودی اطمینان سے کھیتی باڑی اور کام کاج کیلئے کسیاں ، کدال ، ٹوکریاں لے کر باہر نکلنے لگے تو اچانک مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔مدینہ سے منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی نے تو انکو اطلاع دی تھی کہ مٹھی بھر مسلمان خیبر پر حملہ کرنے آ رہے ہیں اب یہ لشکر دیکھ کر وہ حیران و ششدر یہ کہتے ہوئے واپس قلعوں کی طرف دوڑے مُحَمَّدُ وَ الْحَمِيْسُ وَاللهِ مُحَمَّدُ وَالْخَمِيسُ ( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خیبر)