غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 29 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 29

29 یعنی محمد اور اس کا پانچ دستوں والا لشکر۔خدا کی قسم محمد اور پانچ دستوں والا لشکر ( آن پہنچا) رسول الله ملی زبر دست سرپرائز (Surprise) دیکر ایک اور فتح حاصل کر چکے تھے۔اب نعرے لگانے اور خدا کا نام بلند کرنے کا وقت تھا اور اس عارفانہ نعرہ کے پہلے حقدار میرے آقائے نامدار نبیوں کے سردار محمد مصطفی میں تھے۔سو آپ نے خیبر کی وادیوں میں باواز بلند یہ نعرہ لگایا۔اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ ۖ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمِ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْدَرِينَ (بخاری کتاب المغازی) اللہ سب سے بڑا ہے۔خیبر ویران ہو گیا اور ہم جب کسی قوم کو تنبیہہ کرنے اور ہوشیار کر دینے کے بعد اس کے میدان میں اترتے ہیں تو اس کی صبح نا مبارک صبح ہوا کرتی ہے۔یہاں پھر ذرا ٹھہریئے اور اس عربی رسول کی فصاحت و بلاغت کا کرشمہ دیکھئے کہ دو فقروں میں جنگ کی وجوہات سے لے کر اس کے انجام تک کا نقشہ کس خوبی سے کھینچ کر رکھ دیا ہے۔اللہ اکبر کہہ کر خیبریوں کی اس پہلی پسپائی پر کسی فخر کا اظہار کرنے کی بجائے خدا کی عظمت کا اعلان کیا جو دراصل اپنی عاجزی کا اظہار بھی تھا۔" خربت خیبر " کہہ کر اس ابتدائی فتح کو بڑی فتح کا پیش خیمہ قرار دیا اور صحابہ کے حوصلے بڑھاتے ہوئے خیبر کے خراب و ویران ہونے اور شکست فاش کی یقینی اور قطعی پیشگوئی فرما دی۔اور فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْدَرِينَ - یعنی جن لوگوں کو ہوشیار کر دینے کے بعد ہم اقدام کریں تو ایسے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے کہہ کر یہ بھی بتا دیا کہ انذار و تنبیہ کے بعد ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے۔رسول اللہ کے اس واشگاف اعلان سے آپ کی یہ امتیازی شان ظاہر