غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 27
27 اور آہ و زاریاں تو سنیں تا انہیں معلوم ہو کہ یہاں تو رحمت کا اور ہی عالم آباد ہے۔اور پھر اس سرکار دو عالم می میوں کی خاکساری اور اپنے آقا سے مانگنے کی خواہش کو تو دیکھو وہ انتہائی مستعد ہونے کے باوجود بجز و کسل سے پناہ مانگتے ہیں۔وہ سخی اور شاہ دل ہو کر بخل سے امان چاہتے ہیں۔وہ شجاع اور بہادر ہو کر بزدلی سے بچنے کی دعا کرتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں آپ کا وجود تو مجسم دعا تھا کوئی لمحہ دعا اور ذکر سے خالی نہ تھا۔حتی کہ جب آپ خیبر کی بستیوں کے پاس اترے ہیں تو آپ کے دل میں خیبر کے باسیوں کی انسانی ہمدردی کا جوش اس دعا کا روپ دھار کر سامنے آتا ہے جو آپ نے اس موقع پر کی۔"اے آسمانوں اور آسمان کی چھت کے نیچے تمام مخلوق کے رب اور اے زمینوں اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس کے پیدا کرنے والے! اے شیطانوں اور ان کے گمراہ کردہ انسانوں کے مالک! اور اے ہواؤں اور جو کچھ وہ اڑا کر لاتی ہیں ان کے خالق! ہم تجھ سے اس بستی کی خیر کی دعا کرتے ہیں۔ہم اس بستی کے باشندوں کی بھلائی تجھ سے چاہتے ہیں اور جو کچھ اس بستی میں ہے سب کی خیر تجھ سے مانگتے ہیں اور ہم اس بستی اور اس کے رہنے والوں کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں اور جو کچھ اس بستی کے اندر ہے اس سے بھی تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔" (ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۴۰) یہ ہے میرے آقا محمد مصطفی می یام کے دل کی حالت جو اپنے رب کریم کے واسطے دے کر اہل خیبر کی خیر و بھلائی کی دعا کرتا ہے اور نادان دشمن اسلام اس پر جارحانہ حملہ کا الزام لگاتا ہے۔اے دشمنوں کے حق میں خیر و بھلائی کی دعائیں کرنے والے! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! سوائے اس کے کیا کہوں۔