غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 24 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 24

24 خاموش پیش قدمی : سفر خیبر کو مخفی اور محفوظ رکھنے کیلئے آنحضرت ملی و یا لیلی نے ایک اور دانشمندانہ اور مدبرانہ قدم یہ اٹھایا کہ حضرت عباد بن بشر کی سرکردگی میں ایک ہر اول دستہ اپنے قافلہ سے آگے روانہ فرما دیا۔حسن اتفاق سے اس دستہ نے ایک یہودی جاسوس کو پکڑ لیا اس سے پوچھ گچھ کی گئی پہلے تو اس نے کچھ بتانے سے انکار کیا۔پھر جان کی امان مانگ کر بتایا کہ غطفان کا ایک سردار اپنی فوج لیکر خیبر کے قلعوں میں موجود ہے اور مزید امداد کیلئے یہودی سردار غطفانیوں کے پاس گئے ہوئے ہیں۔اس نے مزید بتایا کہ عام یہودی آبادی مدینہ کے یہودی قبائل کا انجام دیکھ کر مسلمانوں سے مرعوب ہے۔سرداروں نے عبد اللہ بن ابی کی طرف سے حملہ کی اطلاع ملنے پر مجھے جاسوسی کیلئے بھیجا ہے۔حضرت عباد نے جب اسے آنحضرت ملی کے حضور پیش کر کے سب حالات عرض کئے تو حضرت عمرؓ نے کہا یہ جاسوس ہے اسے قتل کر دیا جائے۔عباد نے کہا نہیں میں نے اسے امان دی ہے۔عہدوں کو پورا کرنے والے اور امان کا پاس رکھنے والے میرے آقا و مولا نے اس یہودی کے حق میں فیصلہ دیا اور عباد سے فرمایا کہ خیبر پہنچنے تک اس کی حفاظت کی جائے یہاں تک کہ اس کا معاملہ کھل جائے۔کہ واقعی اس نے سچ کہا ہے۔خیبر پہنچ کر یہ یہودی جاسوس آنحضرت ململ کے کریمانہ اخلاق اور مسلمانوں کا حسن سلوک دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحه ۴۴) قریباً ڈیڑھ سو میل کا فاصلہ تین راتوں کے مسلسل تھکا دینے والے سفر میں طے کر کے آنحضرت میں عالمی یوم خیبر پہنچ گئے۔علی الصبح جب وادی خرص سے میدان خیبر میں داخل ہونے لگے تو صحابہ کرام نے بخیر و عافیت تکمیل سفر