غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 23 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 23

23 مشرک رہنما جو ان راستوں کا بھیدی تھا رسول اللہ میم کی بصیرت پر حیران اور متعجب تو ضرور ہوا ہو گا۔اس بے چارے کو کیا معلوم کہ یہ عظیم انسان تو خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔صراط مستقیم کی دعائیں کرنے والے اس حقیقی رہنما کو صرف روحانی راستوں کی ہی راہنمائی تو نہیں کی جاتی تھی بلکہ خدا داد نور بصیرت سے وہ دنیا کے راستوں پر بھی گہری نظر رکھتا تھا۔الغرض اس راستے سے چل کر آنحضرت می رجمیع مقام پر پہنچے جو غطفان اور خیبر کے عین درمیان ہے۔آپ کی یہ تدبیر بہت کارگر ثابت ہوئی اور آپ نے اپنی حیرت انگیز خدا داد فراست سے غطفان کے چار ہزار سپاہیوں کی امداد سے خیبر والوں کو محروم کر دیا جو اہل خیبر کی مدد کو نکل چکے تھے۔اسلامی فوج کا یہ راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے انہیں اندیشہ ہوا کہ کہیں مسلمان پلٹ کر ان پر حملہ آور نہ ہو جائیں۔( تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحہ ۴۳) خیبر میں پڑاؤ کرتے ہوئے بھی آپ نے اس امر کو ملحوظ رکھا کہ آپ اس طرح غطفانیوں اور خیبریوں کے درمیان حائل رہیں کہ غطفانی اہل خیبر کی امداد نہ کر سکیں۔(سیرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ۳۹) چنانچہ منٹگمری واٹ اس دانشمندانہ اقدام کو فتح خیبر کے عوامل میں سے ایک اہم سبب قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے۔وہ عرب قبائل غطفان جن کو یہود نے رشوت دیکر ساتھ ملایا تھا وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سیاسی بصیرت کے باعث ان سے الگ کر دیئے گئے۔" (محمد ایٹ مدینہ صفحہ ۲۱۹) پس یہ محمد مصطفی میت کی فراست کی پہلی فتح تھی کہ آپ نے ایسی راہ اختیار کی جس سے یہود کے حلیف ان سے کٹ کر رہ گئے۔