غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 25
25 کی خوشی میں اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کے نعرے بلند کرنے شروع کئے خاموش پیش قدمی میں نعروں کا یہ شور خلاف مصلحت تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو یہود خیبر کے پاس اچانک پہنچ کر انہیں حیران و ششدر اور مبہوت کرنا چاہتے تھے۔آپ نے صحابہ کو ان نازک لمحات میں موقع محل کی مناسبت سے کام کر نیکی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبَ إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ (بخاری کتاب المغازی) کہ الله اكبر اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تو ذکر الہی کے کلے ہیں۔تم لوگ اپنے نفسوں پر رحم کرو اور آہستہ ذکر الہی کرو جس کو تم پکارتے ہو وہ نہ بہرہ ہے نہ غائب بلکہ وہ خوب سنتا ہے۔وہ تمہارے قریب ہے اور تمہارے ساتھ ہے۔یہ محمد مصطفی می دم کی فصاحت و بلاغت کا کمال تھا کہ اپنے دل کی بات کو ایسے خوبصورت انداز اور جامع الفاظ میں بیان کیا کہ کوئی تشنگی باقی نہ رہی۔کسی کے دل میں اگر یہ خیال آسکتا تھا کہ دشمن کے خوف سے خدا کا نام بلند کرنے سے روک دیا گیا تو اس کا جواب بھی دے دیا کہ اپنے نفسوں پر رحم کرو اور خود ہلاکت کو دعوت نہ دو۔اور دوسرے یہ کہ جس ذات کا تم ذکر کرتے ہو وہ تو آہستہ ذکر بھی اسی طرح سنتا ہے جس طرح بلند۔اب مصلحت وقت کا تقاضا آہستہ ذکر کا ہے اور اس وقت یہی عمل صالح ہے۔دعاؤں کے جلو میں : درنہ جہاں تک خدا کی یاد کا تعلق ہے محمد مصطفی من سے بڑھ کر کون اپنے رب کا عاشق ہو سکتا ہے۔آپ تو اس کی یاد میں مست خیبر میں داخل ہو رہے تھے۔حضرت ابو موسی اشعری کو آپ فرما رہے تھے کہ لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ اعَ الْعَظِيْمِ کا ورد کرو کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک