خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 71

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء موجود ہو کہ میری جان میری ہے، میرا مال میرا ہے تو یقیناً وہ ایک ایسی بات کا ارتکاب کرنے والا قرار پائے گا جسے کوئی مجنون ہی اپنے دل اور دماغ میں لا سکتا ہے۔پھر میں کہتا ہوں احمدیوں کو بھی جانے دو، غیر احمد یوں ، ہندوؤں ،سکھوں ، عیسائیوں، یہودیوں اور پارسیوں وغیرہ میں سے کسی سے سوال کر کے پوچھو کہ آیا تم یہ پسند کرو گے کہ جنت میں داخل کئے جاؤ اور تمہارا ہر قدم ترقی کے میدان میں بڑھتا چلا جائے اور تم پر متواتر خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی رہیں؟ یا تم یہ پسند کرو گے کہ تمہیں کسی دن جنت میں داخل کر دیا جائے، کسی دن دوزخ میں جھونک دیا جائے ، چند دن سایہ دار درختوں میں رکھا جائے اور چند دن کڑکتی دھوپ میں ویران اور سنسان جنگلوں میں پھینک دیا جائے؟ تو میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ اُن میں سے ہر شخص یہی کہے گا کہ میں تو جنت کی آرزو رکھتا ہوں اور اسی لئے دنیا کی مشکلات مجھے بے حقیقت معلوم ہوتی ہیں۔لیکن میں دیکھتا ہوں باوجود اس خواہش کے جو فطری طور پر انسان کے اندر پائی جاتی ہے پھر بھی اکثر لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ایک دن تو اُنہیں قربانیوں کا بے انتہا جوش ہوتا ہے مگر دوسرے دن ان کی طبیعت پر مُردنی چھائی ہوئی ہوتی ہے اور انہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ قربانیوں میں حصہ لینا اپنے اموال کو ضائع کرنا ہے۔گویا وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کے مقابلہ میں اُن سے ایسا ہی سلوک کرے کہ کسی دن اُن کو جنت میں داخل کر دے اور کسی دن دوزخ کی گہرائیوں میں پھینک دے، ایک دن اُن کو سایہ دار درختوں اور ٹھنڈے اور شیریں پانیوں میں جگہ دی جائے اور دوسرے دن اُن کو جلتی ہوئی ریت پر لٹایا جائے۔جنت دوزخ تو ایک تصویر ہے دنیا کے اعمال کی۔اگر ہم ایسا کرتے ہیں کہ ایک وقت تو کہتے ہیں ہماری جان بھی قربان ، ہمارا مال بھی قربان۔نماز پڑھتے ہیں تو بڑی گریہ وزاری سے، چندہ دیتے ہیں تو ایک ایک پیسہ دینے پر ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری روح بلندیوں میں اُڑتی ہوئی آستانہ الوہیت پر سجدہ شکرانہ بجالا رہی ہے کہ اس نے اپنے فضل سے دین کی خدمت کی توفیق دی، مگر چند دنوں کے بعد جب کوئی چندہ مانگنے کے لئے آتا ہے تو ہم کہتے ہیں یہ کیسی مصیبت ہے کہ ہر وقت ہم سے چندہ مانگا جاتا ہے۔اگر ہم چندے ہی دیتے رہیں تو اپنے اخراجات کا کیا انتظام کریں؟ اپنے بچوں اور اپنے عیال کا کس طرح