خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 72

خطابات شوری جلد سوم ۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء گزارہ کریں؟ اگر ہم اسی طرح اپنے رنگ بدلتے چلے جاتے ہیں ، ایک دن سُست ہوتے ہیں دوسرے دن ہوشیار ہوتے ہیں۔تیسرے دن پھر غافل ہو جاتے ہیں۔چوتھے دن طاقت سے بڑھ کر چندہ دے دیتے ہیں۔پانچویں دن چندہ مانگنے والوں پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔یا اگر اتنا نمایاں تغیر ہمارے اندر نہیں ہوتا تو کم سے کم یہ نظارہ ضرور نظر آتا ہے کہ ایک وقت چندے کی طرف دلی رغبت پائی جاتی ہے اور دوسرے وقت چندے کی طرف کوئی رغبت محسوس نہیں ہوتی۔ایک دن نماز پڑھتے ہیں تو خوب گریہ وزاری سے کام لیتے ہیں مگر دوسرے دن نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں تو خیالات پراگندہ ہوتے ہیں۔نہ نماز کے الفاظ کی طرف توجہ ہوتی ہے نہ اُس کی روح کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ایک دن ہمارے اندر قربانیوں پر بشاشت پیدا ہوتی ہے تو دوسرے دن انقباض اور بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔اگر ہم اسی طرح اپنی زندگی بسر کر دیتے ہیں اور ساٹھ یا ستر سال کی زندگی ایک لیول پر بسر کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو ہم کس طرح یہ امید کر سکتے ہیں کہ خدا ہمیں ابدی حیات میں اپنی دائمی رضاء اور دائی جنت کا وارث بنائے۔اگر ہم اپنی زندگی کے چالیس یا پچاس سالوں میں جو کام کے سال ہوتے ہیں اپنی ایک حالت نہیں رکھتے ، کبھی خدا کے دین سے محبت کرتے ہیں تو کبھی اُس سے اپنا منہ پھیر لیتے ہیں۔کبھی اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار کھڑے ہوتے ہیں اور کبھی خیال کرنے لگتے ہیں کہ جان کون قربان کرے جان قربان کرنا تو بڑی مشکل بات ہے۔کبھی ہمارے اعمال میں نیکیوں کا زور ہوتا ہے اور کبھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ نیکی ہمارے قریب بھی نہیں پھٹکی ، کبھی ہم خدا کو یاد کرتے ہیں اور کبھی اُس کو بُھول جاتے ہیں۔اگر ہم اپنی ساٹھ یا ستر یا اسی سالہ زندگی میں خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے متواتر اپنا قدم آگے بڑھانے کے لئے تیار نہیں تو ہم کس طرح یہ امید کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے وہ سلوک کرے جس میں متواتر انعامات اور متواتر برکات کا نزول ہو۔اگر ہم صحیح رنگ میں کوشش نہیں کرتے ، اگر ہم ہمیشہ ترقی کی طرف اپنا قدم نہیں بڑھاتے تو ہمیں اللہ تعالیٰ سے بھی یہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ جنت کے اعلیٰ ترین انعامات یکے بعد دیگرے ہمیں حاصل ہوتے چلے جائیں گے۔جنت ہمارے اعمال کے مطابق تیار ہو گی۔تم اگر اپنے اعمال میں کبھی سست اور غافل ہو جاتے ہو اور کبھی ہوشیار تو تم اس بات کو ظاہر کرتے ہو