خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 70
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء قربان کریں یا مال کا قلیل حصہ تو قربان کر سکتے ہیں مگر کثیر نہیں قطعی طور پر قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف ہے۔کیونکہ ہم سے اگر جانیں لی گئیں، ہم سے اگر مال لئے گئے تو اس لئے کہ ہمیں جنت ملے گی اور جنت وہ چیز ہے جس کا ہم میں سے ہر شخص خواہش مند ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا ہو جو کھڑا ہو کر کہے کہ میں یہ خواہش نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت عطا فرمائے۔اگر کوئی شخص ایسا ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ نہ میں نے جنت کا کبھی مطالبہ کیا نہ مجھے جنت ملنے کی کوئی امید ہے اس لئے میرے لئے جان اور مال کو قربان کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر اس وقت میں آپ لوگوں سے یہ سوال کروں کہ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جنت کی کوئی ضرورت نہیں بے شک مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں دوزخ میں ڈال دے تو میں سمجھتا ہوں آپ لوگوں میں سے ایک شخص بھی کھڑا نہ ہوگا بلکہ ہر شخص یہی کہے گا کہ میں تو چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے جنت عطا کرے۔اور جب آپ لوگ جنت کے طلب گار ہیں اور آپ لوگوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ اُسے جنت کی ضرورت نہیں تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ آپ لوگوں نے اس سودے کو منظور کر لیا ہے جس کا قرآن مجید میں ذکر آتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک سودا ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہر شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اس کو رڈ کر دے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ ہدایت اور گمراہی کی راہوں کو اختیار کرنا انسان کی اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق ہوتا ہے۔خدا کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ ضرور ہدایت کا راستہ اختیار کرے اور خدا کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ ضرور گمراہی کا راستہ اختیار کرے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ مجبور نہیں کرتا کہ لوگ ضرور اپنی جانیں اور اپنے مال قربان کریں۔وہ جنت پیش کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تم چاہو تو دنیا اپنے پاس رہنے دو اور ہمارے پاس آکر دوزخ کو قبول کرلو۔اور اگر چاہو تو اپنی جانیں اور اپنے اموال مجھے دے دو اور میرے پاس آکر مجھ سے جنت لے لو۔یہ سودا ہے جو خدا اور اُس کے مومن بندوں کے درمیان ہوتا ہے۔جو شخص اس سودے کو قبول کر لیتا ہے اُس کے لئے یہ سوال قطعاً باقی نہیں رہ سکتا کہ اب جان اُس کی جان ہے یا مال اُس کا مال ہے۔اگر اس اقرار کے باوجود کسی شخص کے دل میں یہ خیال