خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 65
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء دوستوں کی آراء معلوم کرنے کے لئے چاہئیں۔پچپن منٹ وہ ، اور پونے دو گھنٹے یہ۔گویا پونے تین گھنٹے صرف دوستوں کی تقاریر اور ترمیموں کے متعلق آراء شماری کے لئے درکار ہیں۔اس کے بعد اگر دس پندرہ منٹ دعا وغیرہ کے لئے رکھے جائیں اور میں اپنے خیالات کا اظہار نہ کروں تب بھی اس حساب سے ساڑھے سات بجے آپ لوگوں کو یہاں سے فراغت ہو سکتی ہے۔میں سمجھتا ہوں جو دوست باہر سے آتے ہیں وہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ بجٹ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں اور ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کریں لیکن پھر بھی انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ بجٹ پر صدر انجمن احمد یہ بھی غور کرتی ہے اور پھر سب کمیٹی بھی کافی غور کرتی ہے۔اس لئے إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ عام طور پر کوئی ایسی بات بجٹ میں نہیں ہوتی جو قابلِ اعتراض ہو یا جس کا رکھا جانا غیر ضروری ہو۔مگر میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ دوستوں کی طرف سے ایسی ترمیمیں پیش ہو جاتی ہیں جو بالکل غیر ضروری ہوتی ہیں۔دو چار یا دس روپوں کا سوال ہوتا ہے مگر اتنی سی بات پر اپنا اور دوسرے تمام لوگوں کا بہت بڑا وقت ضائع کر دیا جاتا ہے حالانکہ انہیں سوچنا چاہئے کہ آخر صدرانجمن احمدیہ کے افسروں اور سب کمیٹی کے افراد نے ان پانچ دس روپوں کے خرچ کو کسی مصلحت کے ماتحت ہی رکھا ہوگا اور انہوں نے سوچ بچار سے بھی کام لیا ہو گا یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ بغیر سوچے سمجھے کوئی رقم رکھ دیں اور سلسلہ کے اموال کو ضائع کریں۔جماعت کا مشورہ تو اصولی باتوں کے متعلق ہونا چاہئے نہ یہ کہ سارے ہندوستان کے لوگ اس لئے جمع ہوں کہ پانچ روپے موسمی اخراجات کی مد سے اُڑا دیئے جائیں اور دس فلاں محکمہ کی سٹیشنری کی مد سے اُڑا دیئے جائیں۔میں یہ مانتا ہوں کہ جہاں غیر ضروری باتیں دوستوں کی طرف سے پیش ہو جاتی ہیں وہاں بہت سی ایسی باتیں بھی اُن کی طرف سے پیش ہوتی ہیں جو غور کے قابل ہوتی ہیں مگر جو غیر ضروری باتیں ہیں ان سے ہمیں ضرور بچنا چاہئے۔آج سے آٹھ دس سال پہلے دوستوں کو اعتراضات کا موقع دیا جا تا تھا جو کئی سال تک جاری رہا۔ناظرانِ سلسلہ کی طرف سے اُن اعتراضات کا جواب دیا جاتا تھا اور چونکہ اس ذریعہ سے بار بار جماعت کے سامنے اصل حالات آتے رہتے تھے اس لئے رفتہ رفتہ وہ سوالات سب غائب ہو گئے لیکن بعض سوالات کچھ عرصہ غائب رہنے کے بعد اس سال پھر