خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 64

خطابات شوری جلد سوم ۶۴ مشاورت ۱۹۴۴ء کے مظالم کا اندازہ لگانے کا دنیا کو موقع مل سکے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت ظاہر ہو وہ اللہ تعالیٰ کے الہام لَا نُبقى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكُراً کو پورا کرنے والا ہے۔وہ خدا کا ایک ہتھیار ہے اور بہت بڑے اجر اور ثواب کا مستحق ہے۔پس یہ بہت بڑا کام ہے جو نظارت دعوۃ و تبلیغ کے ذمہ ہے اور اس میں کوتا ہی یقیناً ایک مجرمانہ فعل ہے مگر اس غرض کے لئے سو روپیہ کی رقم بہت ہی حقیر ہے۔اور چونکہ یہ کام خاص اہمیت رکھتا ہے اس لئے میں اپنی طرف سے یہ پیشکش کرتا ہوں کہ سو نہیں اگر دو ہزار چار ہزار بلکہ دس ہزار روپیہ کی بھی انہیں ضرورت ہو تو یہ سارا روپیہ میں انہیں خود دوں گا وہ لٹریچر مہیا کریں اور روپیہ مجھے سے لیں۔اب بجٹ اخراجات پیش ہے جو دوست کسی خرچ میں کمی یا زیادتی کرنے کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہوں وہ اپنا نام لکھوا دیں۔“ اس پر کئی نمائندگان نے نام لکھوائے اور بجٹ اخراجات کی بابت ابھی چند احباب نے اپنی آراء کا اظہار کیا تھا اور بہت سے باقی تھے کہ حضور نے احباب کو وقت کی کمی سے مطلع کرتے ہوئے فرمایا :- اس وقت ساڑھے چار بجے ہیں بلکہ میری گھڑی پر چار بج کر ۳۵ منٹ ہو چکے ہیں اور ساڑھے چھ بجے یہاں سے گاڑی روانہ ہو جاتی ہے درمیانی وقفہ میں دوستوں نے اسباب وغیرہ لینا ہے اور جانے کے لئے تیاری کرنی ہے۔اگر ایک گھنٹہ بھی جانے کی تیاری کے لئے رکھ لیا جائے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اب ہمارے پاس صرف پچپن منٹ باقی ہیں لیکن دوسری طرف یہ حالت ہے کہ ابھی ۱۳ دوست باقی رہتے ہیں جنہوں نے اظہار خیالات کرنا ہے۔آج کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ایک ایک دوست نے ۵ منٹ سے لے کر دس دس منٹ تک تقریر کے لئے لئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ان ۱۳ دوستوں کو اظہارِ خیالات کا موقع دیا جائے تو وہ ۱۳ دوست صرف تقریریں کر کے بیٹھ جائیں گے اور ہم جماعت سے یہ بھی مشورہ نہیں لے سکیں گے کہ سب کمیٹی کا تجویز کردہ بجٹ منظور کر لیا جائے یا نہ کیا جائے؟ اور اگر با قاعدہ آراء شماری ہو تو اس وقت تک بائیس تیئیس ترمیمیں آچکی ہیں۔اگر ایک ترمیم کے لئے پانچ منٹ وقت بھی رکھا جائے تو پونے دو گھنٹے صرف ترمیموں کے متعلق