خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 66
خطابات شوری جلد سوم ۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء پیش کر دیئے گئے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سات آٹھ سال کے بعد وہ دلائل دوستوں کو بھول گئے ہیں جن کی وجہ سے اُن کاموں کو اختیار کیا گیا تھا۔بہر حال اب وقت اتنا قلیل رہ گیا ہے کہ میں تمام دوستوں کو تقاریر کا موقع دینا ، بائیس تئیس ترامیم کو پیش کرنا اور ایک ایک ترمیم کے متعلق دوستوں کی آراء معلوم کرنا، اس کے بعد میرا انصائع کرنا اور پھر دعا کر کے سامان ساتھ لے کر ٹھیک وقت پر گاڑی پر پہنچ جانا انسانی طاقت سے بالا ہے اور یہ بالکل ناممکن ہے کہ اگر اس کام کو جاری رکھا جائے تو وقت کے اندر اس کو ختم کیا جا سکے۔اس لئے اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو احباب فیصلہ کریں کہ وہ ایک دن اور یہاں ٹھہریں گے پھر بے شک اس طریق کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔اور یا پھر وہ یہ فیصلہ کریں کہ بحث کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا جائے اور شوریٰ کے کام کو ختم کر دیا جائے۔لیکن اس صورت میں شوری کا کام ختم کرنے کے یہ معنے ہوں گے کہ تین چار گھنٹے جو بحث پر صرف ہو چکے ہیں اُن کو ضائع کر دیا جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم نے وہ وقت رائیگاں کھو دیا۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک طرف تو یہ بات بھی درست ہے کہ بعض لوگ ایسی باتیں پیش کر دیتے ہیں جو غلط ہوتی ہیں اور بعض خواہ مخواہ اپنی بات کو طول دیتے چلے جاتے ہیں حالانکہ وہ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو یا تو غیر ضروری ہوتی ہیں اور یا پھر اور دوست اُن سے پہلے اُن باتوں کے متعلق اظہار خیالات کر چکے ہوتے ہیں۔مگر وہ اس طرح بات میں سے بات اور پہلو میں سے پہلو نکالتے چلے جاتے ہیں کہ گویا یہاں ایک مناظرہ شروع ہے اور اُن کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کی پیش کردہ باتوں کا رڈ کریں اور ایک ایک بات کے خلاف دلائل پیش کریں۔لیکن جہاں یہ ایک نقص ہے جو دیکھنے میں آیا ہے وہاں اکثر باتیں ایسی بھی کہی گئی ہیں جو یقیناً قابل توجہ ہیں۔اگر کام کو اس طرح ادھورا چھوڑ دیا جائے تو بجٹ پر پورا غور نہیں ہوسکتا حالانکہ ہمارا منشاء یہ ہوتا ہے کہ بجٹ پر پورا غور ہو اور اس کے کسی حصہ پر کوئی اعتراض نہ ہو سکتا ہو۔ان وجوہ کی بناء پر میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ مجلس شوری کا اجلاس منعقد ہو تو سب پہلے بجٹ پر ہی بحث کی جائے۔اور اگر شوری میں تینوں دن بجٹ پر ہی بحث ہوتی رہے تو بے شک تینوں دن یہ بحث جاری رہے اور دوسرے مسائل ترک کر دیے جائیں۔ان معاملات پر غور کرنے کے لئے جون جولائی یا اگست میں دوبارہ مجلس شوریٰ کا اجلاس