خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 63

خطابات شوری جلد سوم ۶۳ مشاورت ۱۹۴۴ء دیا ہے۔اسے سُنتے ہی وہ لڑکا جو فورمن کرسچن کالج میں پڑھتا تھا بولا کہ تو بہ تو بہ یہ عیسائیوں پر بڑا اتہام ہے۔میں عیسائی کالج میں پڑھتا ہوں ہمارے پروفیسر نے کبھی یہ نہیں کہا۔جب اس قسم کی ڈھیٹ قوم سے ہمارا مقابلہ ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اُن کے لٹریچر کو محفوظ رکھیں۔اگر یہ لٹریچر محفوظ نہیں ہوگا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر آنے والی نسلوں کو اعتراض کا موقع ملے گا اور وہ نہیں سمجھ سکیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ باتیں کیوں لکھیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بظاہر نظر بعض سخت الفاظ لکھے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے گالیاں دی ہیں۔اب جب تک ہمارے پاس وہ لٹریچر نہ ہو جس میں دشمنوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی ہیں، وہ اشتہارات نہ ہوں جن میں انہوں نے گالیاں دی ہیں ، وہ ٹریکٹ نہ ہوں جن میں انہوں نے گالیاں دی ہیں تو تھوڑے دنوں کے بعد یہی لوگ یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نعوذ باللہ سخت کلامی کی۔پس ہمارے علماء اور مبلغین کا فرض ہے کہ وہ اس قسم کا لٹریچر جمع کریں اور اُسے لائبریریوں میں محفوظ کر دیں مگر بعض مبلغوں کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ لائبریری سے کوئی ایسا ٹریکٹ یا رسالہ پڑھنے کے لئے لے جاتے ہیں تو چند دنوں کے بعد ہنس کر کہہ دیتے ہیں وہ تو گُم ہو گیا حالانکہ وہ دو یا چار صفحہ کا ٹریکٹ ایک کروڑ روپیہ سے بھی زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔وہ ایک حربہ ہوتا ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر حملہ کرنے والے دشمن کو نا کام بنایا جا سکتا ہے۔جب کوئی شخص اس حربہ کو ضائع کر دیتا ہے تو وہ سلسلہ کو اپنی معمولی سی غفلت سے بہت بڑا نقصان پہنچانے والا ثابت ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا ہے۔لَا نُبْقِي لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَا تِ ذِكْراً۔ہم تیرے متعلق کوئی ایسی بات باقی نہیں رہنے دیں گے جو تیرے لئے ذلت اور رسوائی کا موجب ہو۔ہم خود ان مخزیات کو مٹا دیں گے اور تیری عزت کو دنیا میں قائم کریں گے۔دوسرے الفاظ میں اس الہام کے معنے یہ ہیں کہ ہم مومنوں کے دلوں میں خود تحریک کریں گے کہ وہ ان مخرزیات کا رد کریں۔پس ہر شخص جو ان مخزیات کو رڈ کرنے میں حصہ لیتا ہے، ہر شخص جو اس لٹریچر کو اس لئے جمع کرتا ہے تا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دشمنوں