خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 687

خطابات شوری جلد سوم ۶۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ایک طرف۔مشرقی پاکستان پہلے ہی اپنے چندہ کا ۷۰ فیصدی لے رہا ہے اور پھر مطالبہ کرتا ہے کہ ۲۵ ہزار روپیہ اور دیا جائے اس کے بغیر ہم گزارہ نہیں کر سکتے۔تحریک جدید تو میں نے اب جاری کی ہے پہلے بیرونی مشن بھی صدر انجمن احمدیہ کے ہی سپر د تھے اور ہم غیر ملکوں کو بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو تمہارا سارا بوجھ پاکستانی برداشت کر رہے ہیں۔یا یہ کہتے تھے کہ تمہارا سارا بوجھ ہندوستانی برداشت کر رہے ہیں اور اس طرح شرمندہ کر کے اُن سے تھوڑا بہت چندہ لے لیتے تھے لیکن اگر شیخ بشیر احمد صاحب کی تجویز پاس ہو گئی تو وہ لوگ کہیں گے کہ یہ لوگ تو پاکستان میں ہیں اور مرکزی اداروں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔مثلاً ربوہ کا لنگر خانہ راولپنڈی کو بھی کام دے رہا ہے، کراچی کو بھی کام دے رہا ہے۔اسی طرح کالج میں جو لڑ کے آتے ہیں اُن میں کراچی کے بھی ہیں، لاہور کے بھی ہیں اور راولپنڈی کے بھی ہیں۔گویا وہ سب کو فائدہ دے رہا ہے۔اسی طرح لڑکیاں ہیں وہ کسی جگہ کی بھی ہوں ، ربوہ کا زنانہ کالج انہیں فائدہ پہنچا رہا ہے۔پس بیرونی جماعتیں کہیں گی کہ جب مقامی جماعتیں جو اِن اداروں سے فائدہ اُٹھا رہی ہیں اپنے چندے کا ۳۳ فیصدی لیتی ہیں تو ہمیں ۹۹ فیصدی دیا جائے۔بلکہ ہمیں ۴ ۹۹ فیصدی چندہ مقامی ضروریات کے لئے دینا چاہئے۔باقی مرکز والے لے لیں۔غرض اس طرح چندہ کی تقسیم شروع ہوگئی تو بندر بانٹ ہو جائے گی۔یعنی پنیر تو سارا بند رکھا جائے گا اور بلیاں خالی ہاتھ رہ جائیں گی۔پھر جب ساری رقوم سلسلہ کے کاموں پر ہی خرچ ہوتی ہیں تو کراچی، لاہور اور راولپنڈی کی کیا خصوصیت ہے کہ وہ اپنی آمد کا ۱/۳ حصہ مقامی ضروریات پر خرچ کریں، سب جماعتوں کو۱/۳حصہ خرچ کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔اس میں شبہ نہیں کہ لاہور میں وفد آتے ہیں مگر جماعت کے دوست کیا کرتے ہیں؟ وہ یہ کرتے ہیں کہ انہیں سیدھا ر بوہ بھیج دیتے ہیں اور جب وہ وفو در بوہ آتے ہیں تو ان کی مہمان نوازی وغیرہ پر جس قدر خرچ ہوتا ہے وہ مرکز ہی برداشت کرتا ہے۔گویا جتنی اہمیت لا ہور اور کراچی کی بڑھ رہی ہے، اتنی اہمیت مرکز کی بھی بڑھ رہی ہے۔کراچی میں کوئی باہر کا مہمان آتا ہے تو وہاں سے فون آ جاتا ہے کہ فلاں جرمنی یا امریکہ کا مہمان آ رہا ہے، اس کے لئے قیام وطعام کا انتظام کرو۔