خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 688
خطابات شوری جلد سوم ۶۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء پس جس نسبت سے کراچی کی اہمیت بڑھ رہی ہے اُسی نسبت سے ربوہ کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے اور اُسی نسبت سے ربوہ کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔اگر ہم چندہ کی تقسیم شروع کر دیں تو لازمی طور پر یہ بات ہوگی کہ ربوہ کے کام ختم ہو جائیں گے پھر کراچی والوں کو کوئی حق نہیں ہو گا کہ وہ فون کریں کہ ربوہ میں فلاں مہمان آ رہا ہے۔اگر وہ مہمان یہاں آئے گا اور ہمارے پاس خرچ کرنے کے لئے کوئی روپیہ نہیں ہوگا تو وہ واپس جا کر کہے گا میں آپ کا سنٹر دیکھ آیا ہوں وہاں نہ کوئی تبلیغ کا انتظام ہے، نہ اصلاح وارشاد ہے، نہ تبشیر ہے، نہ کوئی کالج ہے نہ سکول۔مثلاً خود کراچی کی جماعت نے لکھا کہ امریکن سفیر نے ربوہ سے واپس آ کر کہا کہ مجھے وہاں جا کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ربوہ ایک نہایت افسردہ مقام ہے۔وہاں نہ باغات تھے ، نہ سڑکیں تھیں ، نہ کچھ اور تھا۔جماعت کو وہاں اچھی سڑکیں بنانی چاہئیں اور شہر کو خوبصورت بنانے پر خرچ کرنا چاہئے۔گویا کراچی کی حیثیت بڑھ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہم سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یہاں باغات لگاؤ اور سڑکیں بناؤ لیکن جب پیہ تقسیم ہو گیا بلکہ آمد سے بھی زیادہ خرچ ہونے لگا تو اس قسم کے مطالبات کس طرح روپیه پورے ہوں گے۔پس خالی نیچے سے اوپر ہی نہیں جانا چاہئے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ مرکز میں آنے والا پھر کیا اثر لے گا۔اگر ان چیزوں پر سارا چندہ خرچ کر لیا گیا اور مرکز کو غیر آباد کر دیا گیا تو مرکز میں آنے والے کیا اثر لے کر جائیں گے۔پس بے شک ہم جانتے ہیں کہ دوسرے شہروں کی اہمیت بڑھ گئی ہے مگر اس کا علاج یہ نہیں کہ جماعت کی آمد تقسیم کر دی جائے بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ جماعت بڑھے اور چندے ترقی کریں۔اس میں شبہ نہیں کہ جماعت بڑھ رہی ہے اور چندہ بھی بڑھ رہا ہے مگر اخراجات کی نسبت آمد کم بڑھ رہی ہے۔ہمیں زیادہ زور اس بات پر دینا چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کو احمدی کریں۔عورتیں خاوندوں کو احمدی کریں اور خاوند بیویوں کو احمدی کریں۔اسی طرح اپنے قریبیوں اور عزیزوں کو مالی قربانی کی تحریک کریں۔اس طرح چندے بڑھ جائیں گے۔اگر ہم ایک ارب ہو جائیں تو ۲۵ ہزار اور ساٹھ ہزار کی رقوم کا سوال ہی کیا رہ جاتا ہے وہ تو آپ ہی آپ ادا ہو جائے گا۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے اور دُعا بھی کرنی چاہئے کہ ہماری آبادی بڑھے اور آمد بڑھے۔آمد بڑھے گی تو راولپنڈی کی