خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 686 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 686

خطابات شوری جلد سوم ۶۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء ہوگئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بارہ لاکھ 99 ہزار کے موجودہ بجٹ میں سے ۲ لاکھ روپیہ کاٹ لیا جائے۔کہا گیا ہے کہ اس کی ضرورت ہے۔ٹھیک ہے اس کی ضرورت ہے لیکن اگر کوئی ضرورت ہو تو اُس کے لئے آمد بڑھائی جاتی ہے۔مثلاً اگر ضرورت ہے تو جماعت لاہور ۸۰ ہزار روپیہ چندہ کی بجائے تین لاکھ کی آمد پیدا کرے۔راولپنڈی ۲۰ ہزار کی بجائے چار لاکھ پیدا کرے۔کراچی دس لاکھ پیدا کرے اور جب ساٹھ ستر لاکھ کی آمد ہو جائے تو یہ بات پیش کی جائے۔ورنہ اگر ہم اس طرح ان شہروں میں آمد تقسیم کرنا شروع کر دیں تو پنجاب اور مغربی پاکستان کے گاؤں اور مشرقی پاکستان سارے کا سارا رہ جائے گا اور اُن کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوگا بلکہ مرکزی دفاتر بھی اپنا خرچ نہیں چلاسکیں گے۔شیخ بشیر احمد صاحب نے مشرقی پاکستان کو بھی اپنی تجویز میں شامل کر لیا ہے مگر انہیں معلوم نہیں کہ اُن کی تجویز تو یہ ہے کہ انہیں چندہ کا ۳۳ فیصدی دیا جائے مگر مشرقی پاکستان والوں نے پہلے تو تجویز پیش کی تھی کہ اُنہیں اُن کے چندہ کا ۷۰ فیصدی دیا جائے، چنانچہ صدر انجمن احمدیہ نے اُسے منظور کر لیا اور اب تک وہ ۷۰ فیصدی چندہ مقامی ضروریات کے لئے لیتے رہے ہیں اور یہ شرح ایسے ملکوں کی ہے جہاں پاکستانی اور ہندوستانی نہیں بستے مثلاً ایسٹ افریقہ۔مگر پچھلے دنوں پھر مشرقی پاکستان والوں نے شکایت کی تھی کہ اُن کا کام ۷۰ فیصدی میں بھی نہیں چلتا۔انہیں ۲۵ ہزار کی مزید گرانٹ دی جائے۔گویا اپنے چندہ کا ۷۰ فیصدی تو وہ پہلے لے رہے ہیں اور ۲۵ ہزار اُنہیں اور دے دیا جائے۔محاسب صاحب نے بتایا ہے کہ اس طرح جتنا چندہ اُن کا آتا ہے پچاس ہزار اُس سے زائد دینا پڑتا ہے تب جا کر ان کا گزارہ ہوتا ہے۔پس اگر آمد اِس طرح تقسیم کر دی جائے اور ادھر مشرقی پاکستان کا مطالبہ بھی قائم رہے کہ ہمارے چندہ سے ۲۵ ہزار روپیہ زائد ہمیں دیا جائے تو پھر تمام اضلاع محروم رہ جائیں گے۔اگر کراچی، لاہور، پشاور، راولپنڈی اور ڈھاکہ کا حق ہے کہ انہیں ۱/۳ حصہ اُن کی آمد کا دیا جائے تو ملتان، بہاولپور، لائل پور اور حیدر آباد والوں کا بھی حق ہے کہ انہیں اس تجویز میں شامل کر لیا جائے۔اور اگر ان شہروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ صورت ہو جاتی ہے کہ بارہ لاکھ 99 ہزار کے اخراجات کا بجٹ ایک طرف اور آمد صفر