خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 52

خطابات شوری جلد سوم ۵۲ مشاورت ۱۹۴۴ء اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کے آستانہ پر قربان کرنے کے لئے پیش کر دیں۔ہماری مثال اس وقت بالکل اُس شخص کی سی ہے جو اپنے مکان کی چھت کے لئے گارڈر کی تلاش کرتا ہے اور جب اُسے گارڈر نہیں ملتا تو وہ بانس کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں سے ہی کام لے لیتا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اب اُسے گارڈروں کی ضرورت نہیں رہی۔وہ گارڈروں کی ضرورت کو اُس وقت بھی تسلیم کرتا ہے جب اُس کے مکان کی چھت پر بانس کی لکڑیاں پڑی ہوتی ہیں مگر چونکہ گارڈر اُسے ملتے نہیں اس لئے وہ معمولی اور ادنیٰ درجہ کی چیزوں سے کام لینے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح جب تک ہمیں وہ پانچ ہزار مبلغ نہیں ملتے جو دنیا کے ایک معتد بہ حصہ میں تبلیغ اسلام کا فرض سرانجام دیں اُس وقت تک ضروری ہے کہ تبلیغ اسلام کے لئے ادنیٰ اور معمولی درجہ کے اُن سامانوں کو اختیار کریں جو اِس وقت ہمارے امکان میں ہیں اور اگر پانچ ہزار مبلغ نہیں ملتے تو پانچ دس پچاس یا سو مبلغوں سے ہی اس کام کی ابتداء کر دیں لیکن بہر حال یہ ایک عارضی عمارت ہو گی۔اس عمارت پر ہم اسلام کی آئندہ تعمیر کا کلیتہ انحصار نہیں رکھ سکتے کیونکہ عمارت جس قدر بلند ہو اُسی قدر اُس عمارت کی بنیادوں کا مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے۔جب ہمارا مقصد ساری دنیا میں اسلام اور قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی اشاعت ہے تو اس کے لئے ہمارا یہ خیال کر لینا کہ ہم اپنی موجودہ کوششوں سے ہی کامیاب ہوسکیں گے اول درجہ کی غلطی اور نادانی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے کاموں کو بڑھاتے چلے جائیں یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے جب ہم انتہائی قربانیوں سے کام لیتے ہوئے پانچ ہزار مبلغین کے اخراجات آسانی سے برداشت کر سکیں اور اُن کو ساری دنیا میں احمدیت کی اشاعت کے لئے پھیلا دیں۔پہلی قوموں کی دین کیلئے عظیم الشان قربانیاں دیکھو ہم سے پہلے جوتو میں دنیا میں گزر چکی ہیں انہوں نے دین کے لئے ایسی عظیم الشان قربانیاں کی ہیں کہ اُن کے واقعات پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔وہ واقعات ایسے ہیں کہ آج بھی ہمارے لئے اپنے اندر بیسیوں سبق پنہاں رکھتے ہیں اور ہمیں اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ خدا کے لئے قربانی کرنے والے دنیا میں کبھی