خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 53
خطابات شوری جلد سوم ۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء ضائع نہیں کئے جاتے۔حضرت بدھ علیہ السلام کے حالات جو بدھ مذہب کی کتابوں میں آج تک لکھے ہوئے نظر آتے ہیں ایسے پاکیزہ اور اتنے اعلیٰ درجہ کے ہیں کہ اگر انسان کے دل میں تعصب کا مادہ نہ ہو تو وہ اُن واقعات کو پڑھ کر بغیر کسی تردد اور ہچکچاہٹ کے کہہ سکتا ہے کہ یہ شخص یقیناً نبی تھا۔حضرت بدھ علیہ السلام نے جب شہزادگی کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی عبادت اور مذہب کی تبلیغ میں اپنے تمام اوقات کو صرف کرنا شروع کر دیا تو اُن کا معمول تھا کہ جب انہیں بھوک لگتی وہ لوگوں کے گھروں سے بھیک مانگ لیتے بلکہ اب تک بدھ مذہب کے بھکشو اسی طریق پر کار بند ہیں۔بدھ مذہب کے مبلغین کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اپنی روزی کمانے کے لئے کوئی ہنر یا پیشہ اختیار کریں۔اُنہیں یہی حکم ہوتا ہے کہ دنیا میں نکل جاؤ در تبلیغ کرو اور جب تمہیں بھوک لگے تو لوگوں سے بھیک مانگ لو۔اگر وہ تمہیں کھانا دیں تو کھا لو اور اگر نہ دیں تو اُن کو چھوڑ کر دوسرے گاؤں میں چلے جاؤ اور وہاں کے رہنے والوں سے کھانا مانگو۔خود حضرت بدھ علیہ السلام بھی لوگوں سے بھیک مانگ کر گزارہ کیا کرتے تھے جس کا اُن کے باپ کو سخت قلق تھا۔ایک دفعہ وہ اسی طرح تبلیغ کرتے کرتے اپنے علاقہ میں آئے تو اُن کا باپ اُن کے پاس آیا اور کہنے لگا بیٹا ! تم نے تو میرا ناک کاٹ دیا ہے۔انہوں نے کہا میں نے حضور کا ناک کس طرح کاٹ دیا ہے؟ باپ نے کہا تم بھیک مانگتے ہو اور بھیک مانگ کر گزارہ کرتے ہو۔حضرت بدھ نے کہا مہاراج! میں وہی کام کرتا ہوں جو میرے باپ دادا کیا کرتے تھے۔باپ نے یہ بات سنی تو وہ کہنے لگا نہ میں نے کبھی لوگوں سے بھیک مانگی ہے نہ تمہارے دادا نے لوگوں سے کبھی مانگی تھی۔بدھ نے کہا مہاراج! یہ بات سچ ہے مگر میرے باپ دادا وہ سابق انبیاء ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا۔اُنہیں خدا کے نام کو پھیلانے کے لئے لوگوں سے بھیک مانگنے میں کوئی عار نہیں تھا اور یہی وہ کام ہے جو میں کر رہا ہوں۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی اپنے حواریوں کو یہی نصیحت کی کہ :- نہ سونا اپنے کمر بند میں رکھنا نہ چاندی نہ پیسے۔راستہ کے لئے نہ جھولی لینا نہ دو دو کرتے۔نہ جُوتیاں نہ لاٹھی کیونکہ مزدور اپنی خوراک کا