خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 51
خطابات شوری جلد سوم ۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء طرف سے اُس پر عائد ہوتی ہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم قربانی کے لئے جماعت کو بُلاتے چلے جائیں تا کہ ہر قربانی کے بعد اُس سے بڑی قربانی کی ہماری جماعت کو توفیق ملے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر انتہائی قربانی سے کام لیا گیا تو جماعت کی کمر ہمت ٹوٹ جائے گی مگر میں سمجھتا ہوں یہ بات بالکل غلط ہے۔جب بھی ٹوٹے گا منافق ہی ٹوٹے گا، مومن کبھی قربانیوں سے ٹوٹ نہیں سکتا۔جو شخص قربانیاں کرتے وقت اپنے دائیں اور اپنے بائیں دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ آیا فلاں بھی قربانی کر رہا ہے یا نہیں؟ فلاں نے بھی حصہ لیا ہے یا میں ہی حصہ لے رہا ہوں؟ وہ کبھی قربانیوں کے میدان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔لیکن وہ جو خدا کے لئے محض اس کی رضا کے لئے دنیا کے لئے نہیں بلکہ دین کے لئے اپنا انتہائی زور بغیر دائیں بائیں دیکھنے کے صرف کر دیتا ہے وہ ٹوٹا نہیں کرتا بلکہ پہلے۔زیادہ مضبوط ہو جایا کرتا ہے۔گارڈر کے اوپر جب لکڑیاں ڈالی جاتی ہیں تو وہ ٹوٹا نہیں کرتیں، خواہ اُن پر چھت کی مٹی کا کس قدر بوجھ ہو کیونکہ شہتیر اُن کو سنبھالنے کے لئے موجود ہوتا ہے۔اسی طرح مومن کی کمر ہمت ہمیشہ مضبوط رہتی ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرا خدا میرے ساتھ ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ میں اُس کے دین کے لئے قربانیاں کروں اور تباہ و برباد ނ ہو جاؤں۔صحابہ نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! جہاد فی سبیل اللہ کے کیا معنے ہیں؟ آپ نے فرمایا جہاد مختلف نیتیوں سے کئے جاتے ہیں۔کوئی شخص دوسری قوم کے بغض کی وجہ سے جو اس کے دل میں مخفی ہوتا ہے جنگ میں شامل ہوتا ہے اور۔۔کوئی حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّه کی وجہ سے جنگ کرتا ہے، کوئی محض نام و نمود اور شہرت کے لئے جنگ کرتا ہے لیکن اصل مجاہد وہ ہے جو صرف خدا کی رضاء جوئی کے لئے جہاد میں شامل ہوتا ہے۔پس قربانی وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے کی جائے اور جو شخص خدا کے لئے قربانی کرتا ہے وہ کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔پس ہمیں اُس وقت کے آنے سے پہلے جبکہ وہ پانچ ہزار مبلغ آویں جنہیں ہم تبلیغ کے لئے دنیا میں پھیلا سکیں بغیر کسی اور طرف نظر ڈالنے کے قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دینا چاہئے۔تا کہ خدا ہماری اِن حقیر قربانیوں کو قبول فرماتے ہوئے ہمیں توفیق عطا کرئے کہ جب بڑی قربانیوں کا مطالبہ ہو تو اُس وقت ہم خوشی