خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 648
خطابات شوری جلد سوم ۶۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء حلف اُٹھا ئیں۔علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں :- ( ترجمہ ) ” جب یہ طے ہو گیا کہ امام کا مقرر کرنا اجتماعی طور پر واجب ہے تو یہ امر فرض کفایہ قرار پایا۔اب ارباب حل وعقد کے ذمہ ہو گا کہ وہ خلیفہ کا تقرر کریں اور باقی جماعت پر واجب ہوگا کہ سب کے سب خلیفہ کی اطاعت کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اَطِيْعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِى الْأَمْرِ مِنْكُمْ ( مقدمه ابن خلدون صفحه ۶۱ ۱ مطبوعہ مصر ) شیخ رشید رضا صاحب ایڈیٹر ” المنار " مصر نے اپنی کتاب ”الخلافہ“ میں اس بات پر بحث کی ہے۔آپ لکھتے ہیں :- ( ترجمہ ) ''اہل سنت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ خلیفہ مقرر کرنا فرض کفایہ ہے اور امت کے ارباب حل و عقد اس تقریر کے ذمہ وار ہیں۔معتزلہ اور خوارج بھی اس پر متفق ہیں کہ ارباب حل وعقد کی بیعت کے ساتھ خلافت قائم ہو جاتی ہے۔ہاں بعض علماء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ ارباب حل وعقد کون ہیں؟ آیا ان سب کی بیعت ضروری ہے یا معین تعداد کی بیعت سے خلافت قائم ہو جاتی ہے یا یہ کہ اس بارے میں تعداد کی کوئی شرط نہیں۔حالانکہ چاہئے تھا کہ اُن کا ارباب حل و عقد قرار دیا جانا ہر قسم کے اختلاف سے خالی ہو۔کیونکہ اس لفظ کے ظاہری معنے یہ ہیں کہ وہ امت کے لیڈر ہیں اور امت کی اکثریت ان پر اعتماد رکھتی ہے۔اور ان کے مقام کو ایسے طور پر مانتی ہے کہ جس کو وہ خلیفہ مقرر کریں گے امت اس کی اطاعت کرنے میں اُن کی پیروی کرے گی تا کہ امت کا نظام قائم رہے اور مقرر ہونے والے خلیفہ کی نافرمانی اور بغاوت کا سوال پیدا ہی نہ ہو۔علامہ سعد الدین تفتازائی شرح المقاصد میں دوسرے متکلمین اور فقہاء کے ہم نوا ہو کر لکھتے ہیں کہ ارباب حل وعقد سے مراد علماء اور قوم کے سردار اور بڑے لوگ ہیں۔امام نووی المنہاج میں فرماتے ہیں کہ اُن میں سے جن کا حاضر ہونا وقت پر ممکن ہو وہ منتخب کریں گے۔“ امام ابوالحسن الماوردی جنہیں سب سے بڑا قاضی سمجھا جاتا تھا اپنی کتاب (صفحه اا)