خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 647
خطابات شوری جلد سوم ۶۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء بسم اللہ الرحمن الرحیم پیارے ماموں صاحب! خدا تعالیٰ آپ کو عمر دراز دے۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ صبح کا ایک بجنے کو ہے۔میں ابھی ابھی منہ لپیٹ کر رضائی اوڑھے پڑا تھا۔خیال آیا کہ ماموں جان نے کوئی خبر اپنے ہاتھ سے نہیں بھیجی۔دل یا دماغ دونوں میں سے کسی ایک نے کچھ گلہ شکوہ بھی تجویز کیا۔پھر معا خیال آیا کہ آپ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ بھلے مانس تم نے کیا ہماری خبر لی جو ہم پر دوش دیتے ہو۔ماموں جان ! جس بات نے مجھے اس وقت چراغ جلا کر لکھنے کو مجبور کیا ہے وہ یہ ہے کہ جناب کو جو صدمہ جماعت کی ناراضگی سے پہنچا ہے وہ غم وغصہ میں تبدیل ہو کر اللہ تعالیٰ نہ کرے کہ آپ کے ایمان کو ضائع کر دے۔پیارے ماموں! اگر چہ ظاہر میں آپ کی ربوہ سے ہجرت بُری نظر آتی ہے مگر اس سے خوبی جنم لیتی ہے۔یہ موقع آپ کے ایمان کو اجاگر کرنے کے لئے بڑا ہی مبارک ہو سکتا ہے اگر آپ زیادہ سے زیادہ تبلیغ اسلام کی اپنے قلم سے کر سکیں۔پیارے ماموں ! خدا تعالیٰ وہ دن جلد لائے کہ لاہور کے ہر اخبار میں آپ کے ہدایت سے بھر پور مضمون نظر آنے لگیں اور احباب مجبور ہو کر یہ کہ اُٹھیں کہ یہ صاحب احمدی ہیں۔آپ صرف کمر بستہ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا۔پیارے ماموں! یہی ایک طریقہ ہے جو آپ کو پریشانیوں سے نجات دلا سکتا ہے۔“ یہ خط ظاہر کرتا ہے کہ یہ میاں عبدالمنان صاحب کے نام لکھا گیا ہے اور اُن کی جیب سے گرا ہے۔وہ ان دنوں ربوہ آئے ہوئے تھے۔اس خط میں انہیں یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اخبارات میں مضامین شائع کر کے یہ اثر قائم کریں کہ وہ احمدی ہیں تا کہ اپنی سکیم کو بروئے کار لاسکیں۔ان منصوبوں کے ہوتے ہوئے جماعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ انتخاب خلافت کے لئے کوئی مبین طریق تجویز کرے۔جماعت پر یہ امر واضح ہے کہ انتخاب کے وقت جماعت کے ہر فرد کا حاضر ہونا ضروری نہیں۔ارباب حل و عقد کا فرض ہے کہ وہ اپنے میں سے ایک نہایت موزوں اور متقی شخص کو خلیفہ منتخب کر لیں اور باقی جماعتوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کی وفاداری کا