خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 649
خطابات شوری جلد سوم ۶۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء الاحکام السلطانیہ میں لکھتے ہیں :- ( ترجمہ ) ''امامت دو طرح سے منعقد ہوتی ہے۔اوّل یہ کہ جماعت مسلمین کے ارباب بسط و کشاد کسی شخص کو منتخب کریں۔دوم اس طرح کہ سابق خلیفہ کسی کو نامزد کرے۔علماء کا اس بارہ میں اختلاف ہوا ہے کہ ارباب بسط و کشاد کی کتنی تعداد انتخاب کرنے والی ہونی چاہئے۔ایک گروہ کا خیال ہے کہ ہر ملک کے عمومی ارباب حل وعقد کا اجتماع ہونا چاہئے۔تا کہ سب کی رضا مندی ہو اور سب منتخب ہونے والے خلیفہ کی خلافت کو اجتماعی طور پر تسلیم کر لیں۔مگر یہ رائے حضرت ابوبکر کی خلافت کے مسئلہ سے نادرست قرار پاتی ہے کیونکہ وہاں پر جو لوگ اس موقع پر حاضر تھے ان کے انتخاب سے خلیفہ کا انتخاب کیا گیا تھا اور غیر حاضر لوگوں کے آنے کے انتظار میں بیعت کو ملتوی نہیں کیا گیا تھا۔علماء کی ایک دوسری جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ کا انتخاب ارباب حل وعقد میں سے کم از کم پانچ افراد کے انتخاب سے صحیح ہو جاتا ہے خواہ وہ پانچوں ہی اس خلافت کے بارے میں اجتماعی طور پر انتخاب کرنے والے ہوں۔یا ان میں سے ایک مقرر کرے اور باقی چار رضا مندی کا اظہار کرنے والے ہوں۔علماء کی اس جماعت کا استدلال دو باتوں پر ہے (۱) حضرت ابو بکر کی خلافت پانچ اصحاب کے اجتماع سے ہوئی تھی۔باقی لوگوں نے ان پانچ کی اس بارے میں اتباع کی تھی۔وہ پانچ حضرات عمر ابن الخطاب۔ابو عبیدہ بن الجراح۔اُسید بن حضیر۔بشیر بن سعد اور سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہم تھے۔۔حضرت عمرؓ نے اپنے بعد خلافت کے انتخاب کے لئے چھ آدمیوں کی مجلس شوری مقرر کی تھی اور فرمایا تھا کہ پانچ کی رضا مندی سے ان میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کیا جائے۔خلافت کے انتخاب کے لئے ارباب حل وعقد کی مقدار پانچ ہونے کے متعلق ہی اہل بصرہ کے اکثر فقہاء اور متکلمین کا مذہب ہے۔“ ہے۔“ الاحکام السلطانیه صفحه ۴ ) جناب ڈاکٹر سید محمد یوسف صاحب پی۔ایچ۔ڈی لیکچرار عربی علی گڑھ یونیورسٹی