خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 646 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 646

خطابات شوری جلد سوم۔۶۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء آپ بھی ہمارے ماموؤں کے ساتھ مل جائیں۔میں نے کہا مجھ سے تو مار کھائے گا کہنے لگا اگر آپ نہیں تو آپ کی اولاد ہمارے قابو آ جائے گی۔میں نے کہا میں نے اس اولاد کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ سے دُعائیں شروع کر دی تھیں کہ اللہ تعالیٰ اسے شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھے اس لئے میری اولاد آپ لوگوں کے قابو نہیں آ سکتی۔دوسرے خلافت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔وہ جس کو چاہے دے۔آپ کو ہماری خلافت کی اتنی فکر کیوں ہے۔پھر اپنے ماموؤں کے متعلق تو آپ کو اتنی گھبراہٹ ہے۔کم سے کم آپ نے اپنے نانا کی بیعت تو کر لی ہوتی کہنے لگا آپ لوگوں نے ہمارے ماموؤں کو جماعت سے نکال دیا ہے وہ خلیفہ ہوں یا نہ ہوں آپ لوگوں میں ہم نے اختلاف ضرور پیدا کر دیا ہے۔میں نے کہا شیطان کی جانشینی بھی تو کسی نے کرنی تھی۔دوران گفتگو میں اُس نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ رکھا کو پچاس روپے ماہوار دیتا رہا ہوں۔یا یہ کہا کہ اب بھی دے رہا ہوں۔بہر حال اس کا مفہوم یہی تھا۔میں نے اُسے کہا کہ میرے گھر آ کر ذرا اپنی بہن کو بھی مل لو۔کہنے لگا۔میں گیا تو اُس نے بات تو سنی نہیں جو تیاں مارنی شروع کر دینی ہیں۔میں نے کہا۔تمہارا علاج ہی یہی ہے۔خاکسار عبداللہ خان امیر جماعت احمدیہ کراچی اس شہادت سے جو دسمبر ۱۹۵۶ء کے واقعات پر مشتمل ہے ثابت ہے کہ مخرجین کا خاص مقصد خلافت کا حصول یا کم از کم جماعت احمدیہ میں تفرقہ پیدا کرنا ہے۔جس کا میاں عبدالمنان صاحب کے رشتہ دار بر ملا اظہار کرتے ہیں۔اس ناپاک سکیم کے لئے یہ لوگ اللہ رکھا جیسے انسان کو رقمیں دے کر بھی کام لے رہے ہیں۔پس احباب جماعت کا فرض ہے کہ وہ مخرجین کے فتنہ سے ہوشیار رہیں اور انہیں جماعت احمدیہ میں تفرقہ پیدا کرنے کے منصوبہ میں کامیاب نہ ہونے دیں۔مکرم مولوی صاحب نے مزید فرمایا کہ : - ۱۷ مارچ ۵۷ ء کی بات ہے کہ عزیزم عطاء الرحیم حامد کو گول بازار میں سے گزرتے ہوئے ایک خط کا ایک ورق ملا جو وہ اُٹھا کر گھر لے آیا۔وہ ورق میں آپ کو سنا تا ہوں۔