خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 645
خطابات شوری جلد سوم ۶۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء کامیاب نہ ہوں۔اب میں اس بات کے ثبوت میں کہ خلافت کے مخالف ابھی تک اپنی کوششوں میں سرگرم عمل ہیں بعض شہادتیں پیش کرتا ہوں۔مکرم جناب چوہدری عبداللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی کی شہادت مکرم چوہدری عبد اللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی فرماتے ہیں:۔غالباً فروری یا مارچ ۱۹۵۶ء کی بات ہے کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی مجھ سے کراچی میں دو تین دفعہ ملنے کے لئے آئے اتفاق ایسا ہوا کہ میں انہیں مل نہ سکا۔اس کے بعد اُنہوں نے مجھے پیغام بھجوایا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں مجھے کچھ وقت دیا جائے۔میں نے یہ محسوس کر کے کہ وہ دو تین دفعہ مجھ سے پہلے بھی ملنے کی کوشش کر چکے ہیں مگر میں انہیں نہیں ملاحسنِ اخلاق کے ماتحت مناسب سمجھا کہ انہیں خود جا کر مل لوں کیونکہ وہ میری بیوی کے رشتہ دار ہیں۔چنانچہ میں نے پیغامبر سے کہا کہ میں آج شام خود اس جگہ حاضر ہو جاؤں گا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔اُن کا قیام اس وقت احمد غزنوی صاحب سپیشل جج کے ہاں تھا۔شام کو میں حسب وعدہ اُن کے ہاں گیا۔دوران گفتگو میں اُنہوں نے حضرت (خلیفہ اسیح الثانی) ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ذکر شروع کر دیا اور مجھے کہا کہ میں نے حضور کی بیعت کر لی ہے۔میں اس پر ہنس پڑا اور میں نے کہا کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں۔اس پر اُنہوں نے قسم کھا کر کہا کہ میں نے بیعت کر لی ہے اور کہا میں صحیح کہہ رہا ہوں۔کہ میں نے بیعت کر لی ہے اور اس کے بیان کرنے میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں۔دوسرے دن میں اور ملک اُن کے پاس گئے۔میں منصور ملک کو اُن کے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔بعد میں منصور ملک صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ نے تو مجھے بتایا نہیں۔یہ بزرگ تو احمدی ہیں۔میں نے کہا یہ مجھ سے بھی یہی بات کہتے تھے لیکن اس بزرگ کا اعتبار نہیں۔یونہی منافقت کر رہے ہیں۔احمدی نہیں ہیں۔“ دسمبر ۱۹۵۶ء کے تیسرے ہفتہ کا واقعہ ہے کہ عبدالرحمن غزنوی جو مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی کا بھانجا ہے ایک شادی کے سلسلہ میں مجھے میٹرو پول ہوٹل میں ملا اور اُس نے کوئی گفتگو چھیڑ کر مجھے کہا کہ آپ لوگوں نے ہمارے ماموؤں کو جماعت سے نکال دیا ہے لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے نانا کی خلافت ہمارے ماموؤں کومل جائے۔