خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 638
خطابات شوری جلد سوم ۶۳۸ کرے گا ، باقی تفصیلات کمیٹی خود طے کر لے گی۔“ اختتامی تقریر رت ۱۹۵۶ء مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حضور نے مختصر الوداعی خطاب فرمایا : - اس سال مشاورت کے لئے چار دن مقرر کئے گئے تھے تاہم تین دن میں ہی کام مکمل ہو گیا۔اس کا نیز اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔میں بیماری کی وجہ سے اپنے ماحول کو بھی پوری طرح نہیں سمجھ سکتا۔مجلس میں کئی باتیں ہوتی ہیں ایک بات کا دوسری بات سے تعلق ہوتا ہے لیکن میں اپنے ذہن میں ان کے تسلسل کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ورنہ جب میری صحت اچھی تھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارا کام میں خود ہی کرتا رہا ہوں اب مجبور ہوں۔جب ایک بات کے بعد دوسری بات شروع ہوتی ہے تو میں پہلی بات بُھول جاتا ہوں اور اس طرح تسلسل قائم نہیں رہتا ، دماغ پریشان ہو جاتا ہے اس لئے جو کام میری طاقت سے باہر ہے اسے کرنا میرے لئے مشکل ہے۔شوری کے لئے اس سال چار دن مقرر تھے مگر میں نے دیکھا ہے کہ اس سال بہت کم لوگ شوری پر آئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں آہستہ آہستہ اس کی عادت پڑ جائے گی۔چندوں کو ہی لے لو، شروع شروع میں لوگ بہت کم چندہ دیتے تھے پرانی لسٹوں کو دیکھ لو آنہ آنه ، دو دو آنہ چندہ لکھا ہے آج جماعت کے غریب سے غریب افراد بھی بڑی بڑی رقوم بطور چندہ دے جاتے ہیں۔تھوڑے دن ہوئے ایک شخص مجھے ملنے آیا وہ غیر احمدی تھا دیر تک وہ مجھ سے باتیں کرتا رہا۔بعد میں اُس نے سو روپے چندہ دیا اور کہا کہ اِس رقم سے کتابیں خریدیں اور اپنی لائبریری میں رکھیں۔پس کجا یہ حالت تھی کہ اگر کوئی احمدی دو آنہ یا تین آنہ چندہ دیتا تھا تو اخبارات میں چھپتا تھا کہ فلاں شخص نے اتنی رقم دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن اب ایک معمولی احمدی بھی پانچ چھ روپیہ سالانہ دے دیتا ہے۔پھر کئی ایسے بھی ہیں جو ہزار ہزار، دو دو ہزار روپیہ سالانہ چندہ دیتے ہیں اور اب تو عام چندہ کے علاوہ تحریک جدید کا چندہ بھی ہے۔پس یہ عارضی روکیں ہیں۔علماء سکولوں سے تعلقات پیدا کریں اور لڑکوں کو تحریک کریں کہ وہ خدمت دین