خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 637

خطابات شوری جلد سوم ۶۳۷ رت ۱۹۵۶ء آپ کے اس فعل کو قابل فخر سمجھتے ہیں۔پھر ماں باپ کی ناپسندیدگی کے باوجود وقف کرنے والے لڑکوں کو قابلِ مذمت کیوں قرار دیں۔چنانچہ میں ایسے لڑکوں کو یہی جواب دیتا ہوں کہ اگر تمہیں اطمینان قلب حاصل ہے اور تم خدا تعالیٰ کا کام کرنا چاہتے ہو تو والدین کی پرواہ نہ کرو اور دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں پیش کر دو۔پس اصل چیز یہ ہے کہ پوری طرح تحریک نہیں کی جاتی۔باہر سے مہمان آتے ہیں، علماء کو چاہئے کہ انہیں بھی ملیں اور اس بارہ میں انہیں تحریک کریں۔قادیان میں پچاس ساٹھ مہمان روزانہ آجاتے تھے۔پندرہ ہیں تو یہاں بھی آجاتے ہوں گے، علماء ان کے پاس جائیں اور انہیں تحریک کریں کہ وہ اپنی اولاد میں سے ایک حصہ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔چھٹیوں میں اُنہیں یہاں بھیج دیا کریں تاکہ وہ قرآن کریم سیکھیں۔جب میٹرک پاس کر لیں تو اُنہیں جامعہ احمدیہ میں بھیج دیں اس کے بعد وہ عالم بن جائیں گے۔پس علماء تحریک کریں، وہ دیکھیں گے کہ تھوڑے ہی عرصہ میں نو جوانوں کو وقف زندگی کی طرف رغبت پیدا ہو جائے گی۔دل خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہوتے ہیں۔وہ اُنہیں جس طرف چاہے موڑ سکتا ہے۔صرف زبان ہلانے کی ضرورت ہے ، نتائج کے متعلق فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔بمفت ایں اجر نصرت را د ہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمانست ایں بہر حالت شود پیدا پس خدا تعالیٰ تو آپ لوگوں کو مفت میں اجر دینا چاہتا ہے ورنہ یہ اُس کا فیصلہ ہے کہ کام بہر حال ہو گا اس لئے چاہے والدین ناراض ہوں لیکن بچے وقف زندگی میں ضرور آئیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وقف کرنے والے آئیں گے اور ضرور آئیں گے اور ہمارا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول پر ایمان لائیں جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔والدین اور بچوں کو تحریک کریں تا احمدیوں کے کانوں میں یہ بات نا رہے کہ احمدیت کی خدمت کے لئے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔تم دیکھتے ہو کہ سپاہیانہ زندگی میں نوجوان بڑے شوق سے آتے ہیں۔وقف بھی ایک قسم کا فوجی کام ہی ہے اس میں نوجوان ضرور آئیں گے۔ہمیں صرف تحریک کرتے رہنا چاہئے خدا تعالیٰ ضرور امداد