خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 639
خطابات شوری جلد سوم ۶۳۹ رت ۱۹۵۶ء کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔پھر انٹرنس کیا بی اے بھی وقف میں آئیں گے ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء اُن سے ملیں اور اُن پر دین کی اہمیت واضح کریں اور سلسلہ کی ضرورت پیش کریں۔اس سے اُن کے اندر خدمت دین کا جذبہ پیدا ہو جائے گا۔اس سال شوری کے لئے چار دن مقرر تھے لیکن مجلس نے پچھلے سال کی طرح تین دن میں اپنا کام ختم کر دیا مگر امید ہے کہ آہستہ آہستہ جماعت کے دوست اس بات کی اہمیت کو سمجھ جائیں گے اور نمائندگان بھی کثرت سے آئیں گے اور کام بھی تین دنوں میں ختم نہیں ہوگا۔اسی طرح تقریریں کرنے والوں کو بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لئے زیادہ وقت دیا جا سکے گا۔ہمارے ملک میں ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ ”سج پکے سو میٹھا ہو ، جو پھل آہستہ آہستہ پکتا ہے وہ ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔اگر کسی آم کو جلد پکانے کے لئے پندرہ لحاف اُس پر ڈال دیئے جائیں تو زیادہ گرمی کی وجہ سے وہ سڑ جائے گا لیکن اگر اسے تھوڑی اور مناسب گرمی پہنچائی جائے تو وہ میٹھا ہوگا جماعت کو بھی جو ترقیات ملی ہیں وہ آہستہ آہستہ ہی ملی ہیں۔پہلی شوری کو ہی لے لو اُس میں سو ڈیڑھ سو ممبر شامل ہوتے تھے لیکن پھر ان کی تعداد پانچ سو سے بھی بڑھ گئی۔تقسیم ملک کے بعد ممبران میں پھر کمی آنی شروع ہوئی لیکن آہستہ آہستہ یہ کمی پھر زیادتی سے بدل گئی۔بہر حال جب کسی چیز پر نیا دور آتا ہے تو کم لوگ اس میں حصہ لیتے ہیں۔ربوہ میں پہلا سالانہ جلسہ ہوا تو اُس میں بہت کم لوگ آئے تھے لیکن اب جلسہ پر آنے والوں کی تعداد چالیس پچاس ہزار کے قریب ہوتی ہے اور دوست دیکھیں گے کہ کسی دن جلسہ پر آنے والوں کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھ سے بھی آگے نکل جائے گی۔اسی طرح اس دفعہ شوریٰ کا کام چار دن کی بجائے تین دن میں ختم کر دیا گیا ہے لیکن جب دو چار دفعہ چار دن کی سکیم چل جائے گی تو دماغ پک جائیں گے اور آنے والے سوچیں گے کہ اُنہوں نے چار دن تک یہاں رہنا ہے اور پھر لوگ بڑی کثرت سے آنے لگ جائیں گے۔آؤ اب ہم یہ دعا کر کے شوری کے اجلاس کو ختم کریں کہ خدا تعالیٰ ہمیں پھر اگلے سال شوری میں شریک ہونے کا موقعہ دے اور ہمیں عمدگی سے ان چار دنوں کو استعمال کرنے کی